اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین مذہب کیس میں گرفتار ملزم ثاقب علی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن عدالت میں پیش ہوئے۔
این سی سی آئی اے (NCCIA) کی طرف سے ڈسٹرکٹ کورٹ میں صرف ایک پراسیکیوٹر ہونے کے باعث کیسز میں تاخیر ہونے کا معاملہ بھی عدالت میں اٹھایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد ہائیکورٹ کا توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کا حکم
عدالت نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا اور سماعت کو کل تک ملتوی کر دیا۔
اس سے قبل گزشتہ سال توہینِ مذہب سے متعلق مقدمات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی ہدایت جاری کردی۔
یہ بھی پڑھیں: توہین مذہب معاملہ، سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست آج دائر اور آج ہی سماعت
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ان درخواستوں پر سماعت کی جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ توہینِ مذہب کے حساس نوعیت کے مقدمات میں سچ اور جھوٹ کی جانچ کے لیے ایک بااختیار کمیشن تشکیل دیا جائے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ حکومت 30 دن کے اندر کمیشن تشکیل دے۔














