ایران کے خلیجی ممالک پر حملے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کی جانب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کو ماہرین نے ایک خطرناک اور مہلک رجحان قرار دیا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے خلیجی خطے میں مسلسل جارحانہ کارروائیاں کیں، جن میں ہزاروں میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں محض ردعمل نہیں بلکہ خطے کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی ایک منظم کوشش ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں 6400 سے زیادہ حملے کیے گئے

اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں 6400 سے زیادہ حملے کیے گئے، جن میں 2600 سے زیادہ میزائل اور قریباً 3900 ڈرون شامل ہیں، جو دفاع کے بجائے خوف اور دباؤ پیدا کرنے کی حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات کو سب سے زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، اردن، عراق، عمان اور قبرص بھی ان حملوں کی زد میں آئے، حالانکہ یہ ممالک اس تنازع کا براہ راست حصہ نہیں تھے۔

سعودی عرب پر 1200 سے زیادہ حملے کیے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کی پالیسی کشیدگی کو مزید بڑھانے کی جانب مائل ہے۔

جنگی حکمت عملی اور اثرات

ماہرین کے مطابق ڈرون حملوں کا زیادہ استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران ایک ایسی حکمت عملی اپنا رہا ہے جس کے ذریعے فضائی دفاعی نظام کو ناکام بنا کر شہری آبادی میں عدم تحفظ پیدا کیا جا سکے۔

مزید برآں، حملوں کا رخ خلیجی معیشتوں اور اہم مراکز کی جانب ہے، جس کا مقصد دباؤ ڈالنا اور خوف پھیلانا ہے، نہ کہ کوئی واضح فوجی ہدف حاصل کرنا۔

عالمی سطح پر خدشات

ان حملوں کے باعث انفراسٹرکچر، شہروں اور معاشی مراکز کو شدید خطرات لاحق ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایران کی حکمت عملی پورے مشرقِ وسطیٰ کو وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، ماہرین

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی یہ حکمت عملی پورے مشرقِ وسطیٰ کو وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال کسی محدود تنازع یا مزاحمت کا حصہ نہیں بلکہ خلیجی اور عرب دنیا کے خلاف ایک منظم اور ریاستی سطح پر کی جانے والی جارحیت کی عکاسی کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بنگلہ دیش ہاتھ سے نکلا تو بھارت کو پڑوسی یاد آگئے، طارق رحمان کو دہلی بلانے کے لیے بے تابی

پانچوں آئل ریفائنریاں ریفائنری اپ گریڈ پالیسی کے تحت معاہدوں کے لیے تیار، علی پرویز ملک

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ