وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں پالتو شیر اور دیگر جنگلی بلیوں کو رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ ڈھولا بریڈنگ فارم پرپیش آنے والے حادثے کے پس منظر میں کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 8 سالہ بچے واجد کا بازو ضائع ہوگیا تھا۔
وزیراعلیٰ نے واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں خاتون پر شیر کے حملے بعد کریک ڈاؤن، 13 شیر برآمد
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر مجروح واجد کو فوری طور پر گنگا رام اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کے علاج کے لیے خصوصی طبی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بچے کو جدید بائیونک آرم لگانے کی بھی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واجد کے علاج معالجے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے ننھے واجد اور اس کے والدین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے بچے کی مکمل طبی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری قرار دی۔
لاہور میں ایک اور بچے پر پالتو شیر نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں آٹھ برس کا ماجد بازو سےمحروم ہوگیا۔
ملزمان واقعہ کو حادثے کا رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے اور نجی اسپتال نے بھی پولیس کو اطلاع نہ دی۔
والد کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بچے کا علاج کروانے کی اپیل کی گئی ہے pic.twitter.com/qLJh0ZqtQ2
— Ruhma Irfan Malik (@iruhmamalik) January 26, 2026
وزیراعلیٰ نے واقعے کو دانستہ طور پر چھپانے، جھوٹ بول کر حقائق مسخ کرنے اور مقامی و نجی ہسپتال میں بچے کا بازو کاٹنے کے عمل پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق فارم ہاؤس کے مالک نے اس افسوسناک واقعے کی اطلاع نہ پولیس کو دی اور نہ ہی محکمہ جنگلی حیات کو آگاہ کیا۔
مزید پڑھیں: شیر کے حملے میں زخمی افراد کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے امداد کا اعلان
مزید یہ کہ پرائیویٹ اسپتال میں بچے کے بازو پر زخم کی وجہ بھی غلط بتائی گئی، جبکہ فارم ہاؤس کے مالک نے بچے کے والدین کو بھی جھوٹی کہانی سنانے پر مجبور کیا۔
حکام کے مطابق پولیس اور محکمہ جنگلی حیات نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت پالتو ’وائلڈ کیٹس‘ رکھنے کے لیے جاری لائسنسوں کی شق ختم کرنے کی بھی ہدایت جاری کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور میں شیر کا شہریوں پر حملہ، ’شیر امیر لوگ رکھتے ہیں، امیروں کے لیے کونسا قانون ہے؟‘
اس فیصلے کے بعد صوبے بھر میں شیر اور دیگر جنگلی بلیوں کو نجی طور پر رکھنے کی اجازت ختم ہو جائے گی۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قانون سے بالاتر کسی کو بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔
















