مشکل دور، خاموشی اور شرمندگی: اپنی ذاتی زندگی پر فاطمہ بھٹو کی مزید لب کشائی

جمعرات 29 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میر مرتضیٰ بھٹو مرحوم کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ ان کی نئی یادداشت ’دی آور آف دی وولف‘ وہ کتاب نہیں تھی جو وہ لکھنا چاہتی تھیں بلکہ وہ تھی جسے لکھنا وہ خود پر لازم سمجھتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب: بے چینی، رشتوں کی پیچیدگیوں اور پالتو جانور کی محبت کے قصے

انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں فاطمہ بھٹو صوفے پر بیٹھی نظر آتی ہیں اور ان کے ساتھ ان کا کتا کوکو موجود ہے اور ہاتھ میں کتاب کی ایک کاپی ہے۔

ویڈیو میں وہ بتاتی ہیں کہ یہ یادداشت ان کی زندگی کے ایک ایسے دور سے جنم لیتی ہے جس پر وہ شدید شرمندگی محسوس کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ایسا جابرانہ تعلق تھا جس میں وہ ان کے بقول ضرورت سے کہیں زیادہ عرصے تک پھنسی رہیں۔

فاطمہ بھٹو نے کہا کہ میں یہ کتاب نہیں لکھنا چاہتی تھی کیونکہ مجھے شرم آتی تھی، بہت زیادہ شرم‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس عرصے میں کئی حوالوں سے ٹوٹ چکی تھیں اور کسی ایسی چیز کی تلاش میں تھیں جو انہیں ٹھیک کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سمجھنے میں بہت وقت لگا کہ مجھے خود کو ٹھیک کرنا ہے اور خود کو بچانا ہے۔

مزید پڑھیے: ذوالفقار بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو کا نکاح ، شوہر کس کو چنا؟ نام سامنے آ گیا

فاطمہ بھٹو کے مطابق انہوں نے یہ کتاب اس احساس کے تحت لکھی کہ بہت سی خواتین بھی اسی طرح کی شرمندگی محسوس کرتی ہیں اور اپنے تجربات کے بارے میں بات نہیں کر پاتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاموشی اکثر لوگوں کو نقصان دہ حالات میں ضرورت سے زیادہ دیر تک پھنسائے رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا اب میرا خیال ہے ہمیں اس بارے میں بات کرنی چاہیے تاکہ کم لوگ ایسے حالات میں وقت ضائع کریں۔

یہ یادداشت پہلے ہی امریکا میں شائع ہو چکی ہے جبکہ اگلے ماہ برطانیہ میں اس کی اشاعت متوقع ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Fatima Bhutto (@fbhutto)

کتاب میں فاطمہ بھٹو کے کتے کوکو کا بھی مرکزی کردار ہے جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ اس نے ان کی زندگی کے سب سے نازک دور میں ان کا ساتھ دیا۔

ویڈیو میں وہ کتاب کو کتوں اور اس محبت کے بارے میں قرار دیتی ہیں جو بغیر کسی شرط کے ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دوستی کی مختلف صورتوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

اس سے قبل فاطمہ بھٹو یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ یہ کتاب اضطراب، منتخب خاندان اور جذباتی نقصان کے بعد خود کو دوبارہ تعمیر کرنے کے سست اور مشکل عمل پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ وہ اس یادداشت کو کسی ڈرامائی فرار کی کہانی کے طور پر پیش کرنے کی بجائے اس حقیقت کا بیان قرار دیتی ہیں کہ جبر کو پہچاننا اس وقت کتنا مشکل ہوتا ہے جب انسان خود اس کے اندر ہو اور خود پر دوبارہ اعتماد کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔

مزید پڑھیں: فاطمہ بھٹو کے ہاں بیٹے کی پیدائش، نام مرتضیٰ بھٹو رکھ دیا

فاطمہ بھٹو کے مطابق یہی شعور بالآخر اس کتاب کے ناگزیر ہونے کی وجہ بنا۔ اگرچہ وہ دی آور آف دی وولف لکھنا نہیں چاہتی تھیں مگر ان کے بقول خاموش رہنا اب ممکن نہیں رہا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل

تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے

گلگت بلتستان انتخابات: ووٹرز سیاسی جماعتوں سے کیا چاہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں