پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو شدید دباؤ دیکھنے میں آیا، جہاں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 6 ہزار سے زائد پوائنٹس کی بڑی کمی سے دوچار ہو گیا۔
کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا اور دن بھر فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔ دوپہر کے ابتدائی اوقات میں فروخت میں مزید تیزی آئی جس سے انڈیکس تیزی سے نیچے گرتا ہوا دورانِ ٹریڈنگ 181,961.14 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔ تاہم آخری گھنٹے میں معمولی ریکوری کے باعث نقصانات میں کچھ حد تک کمی دیکھنے میں آئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 6,042.26 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ 182,338.12 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں اس شدید دباؤ کی بنیادی وجوہات جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہیں۔ اسماعیل اقبال سیکورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ شرح سود میں ممکنہ کمی کا عمل تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثناء توفیق نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کے ساتھ ساتھ فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ کے مالیاتی نتائج بھی مارکیٹ کی توقعات سے کم رہے ہیں، جس کے باعث ہمہ جہت فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔
اہم پیشرفت کے طور پر مختلف تجارتی تنظیموں نے مجوزہ بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باوجود ملکی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات کے لیے ساختی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز کے ایس ای 100 انڈیکس 177.53 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 188,380.39 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں جمعرات کو استحکام دیکھا گیا، جہاں ٹیکنالوجی سیکٹر کے ملے جلے نتائج اور ایپل کے مالیاتی نتائج سے قبل سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیے رکھا۔ امریکی اور یورپی حکام کی زبانی حمایت کے باوجود ڈالر کی پوزیشن غیر مستحکم رہی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، انڈیکس 1,100 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا
عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے بیانات کے بعد تیل کی قیمتیں بھی چار ماہ کی بلند ترین سطح پر آ گئیں۔
دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو نے توقعات کے مطابق شرح سود برقرار رکھی، جبکہ چیئرمین جیروم پاول نے معاشی حالات میں بہتری اور شرح سود میں وقفے پر کمیٹی کے اندر وسیع اتفاق رائے کا عندیہ دیا۔ سرمایہ کاروں نے اپریل تک شرح سود میں کمی کے امکانات کو کم کرتے ہوئے 26 فیصد کر دیا ہے، جبکہ جون کو اگلا ممکنہ موقع قرار دیا جا رہا ہے۔














