بھارت آج اپنا سالانہ بجٹ پیش کرے گا، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے حکومتی منصوبے سامنے آئیں گے۔ معاشی ماہرین توقع کرتے ہیں کہ حکومت مالی خسارہ 4.2 فیصد جی ڈی پی تک محدود رکھے گی اور قرض 49-51 فیصد تک لانے کی کوشش کرے گی، جبکہ مجموعی قرض 16–16.8 ٹریلین روپے تک بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا امریکی دفاعی بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کا اعلان، اسلحہ کی نئی دوڑ کا خدشہ
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دفاعی وزارت نے پاک بھارت حالیہ مختصر لیکن مہلک تنازع کے بعد فوجی اخراجات میں 20 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے اور دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قواعد آسان کرنے کا کہا ہے۔
خبر کے مطابق انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 3.1 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے، جبکہ ٹیکس اور درآمدی محصولات میں ممکنہ اصلاحات برآمدات کو فروغ دینے کے لیے کی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت کا جنگی جنون: بڑھتا دفاعی بجٹ خطے میں عدم توازن کا باعث
فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FICCI) نے دفاعی صنعتی کارڈورز، برآمدی پروموشن کونسل اور معاہداتی مینوفیکچرنگ کے لیے ٹیکس قوانین میں ترامیم کی تجویز دی ہے۔














