70 دن بعد واپسی، سہیل آفریدی کی سیاست میں بلوغت

جمعرات 5 فروری 2026
author image

محمد فہیم

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

70 روز پہلے ایک نمازِ جنازہ میں تلخ جملوں نے ماحول کو سرد کر دیا تھا، آج اسی صوبے کا وزیرِ اعلیٰ ایک اور شہید کو کندھا دیتے نظر آیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہی سہیل آفریدی ہیں یا واقعی کچھ بدل چکا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی اور طالبہ کا دلچسپ مکالمہ، سوال کرپشن جواب جماعتی وابستگی و دیگر صوبے

4 فروری 2026 کو وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے شہید کیپٹن عباس خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ان کے ہمراہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس ذوالفقار حمید بھی موجود تھے۔ بظاہر یہ ایک معمول کی سرکاری شرکت تھی، مگر پس منظر میں جھانکیں تو یہ قدم غیر معمولی دکھائی دیتا ہے۔

اس سے قبل 24 نومبر 2025 کو فیڈرل کانسٹبلری ہیڈکوارٹر پر حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ میں بھی وزیرِ اعلیٰ شریک ہوئے تھے، مگر اس روز کا منظر مختلف تھا۔

 تلخی کا پس منظر

قابلِ اعتماد ذرائع کے مطابق جنازے کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ اور کور کمانڈر کے درمیان چند سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ فضا میں تناؤ محسوس کیا جا سکتا تھا۔ کور کمانڈر نے صوبے کے حالات کے پیشِ نظر مل بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی بات کی، مگر سہیل آفریدی کا ردِعمل غیر متوقع طور پر سخت تھا۔ انہوں نے کہا:

’آپ نے بیٹھنے کے لائق کچھ چھوڑا ہے؟ ہری پور میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، اس کے بعد کیسے بیٹھیں؟‘

چند جملوں کی یہ گفتگو ماحول کو کشیدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ اردگرد موجود افراد چہروں کے تاثرات سے ہی معاملے کی سنگینی سمجھ گئے۔

یہ واقعہ بھی اتفاقی نہیں تھا۔ اس سے ایک روز قبل 23 نومبر 2025 کو ہری پور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 کے ضمنی انتخابات ہوئے تھے، جن میں پی ٹی آئی کو شکست ہوئی اور پارٹی نے نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ اسی سیاسی پس منظر نے شاید اس تلخی کو اور بڑھا دیا۔ اس دن کے بعد فاصلے بڑھتے گئے۔ وزیرِ اعلیٰ کئی نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں شکوہ کیا کہ انہیں شہداء کے جنازوں میں بلایا ہی نہیں جاتا۔

رویے میں تبدیلی کے آثار

مگر اب منظر بدل رہا ہے۔ تقریباً 70 دن بعد وہی سہیل آفریدی دوبارہ جنازے میں نظر آئے۔ پھر ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی کور کمانڈر کے ساتھ بیٹھ کر صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ یہ محض رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک عملی پیشرفت تھی۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، رانا ثنااللہ نے میٹنگ کا احوال بتا دیا

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان 110 دنوں میں وزیرِ اعلیٰ نے سیاست اور حکمرانی کی کچھ تلخ حقیقتیں سیکھ لی ہیں۔ سوشل میڈیا کی دھونس، جذباتی بیانات اور سخت لب و لہجہ وقتی طور پر ویوز اور لائکس تو دلا سکتے ہیں، مگر ریاستی معاملات اس سے نہیں چلتے۔ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں مفاہمت، رابطہ اور اداروں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ناگزیر ہوتی ہے۔

مفاہمت کی سیاست

اس تبدیلی کا عکس عملی اقدامات میں بھی نظر آتا ہے۔ تیراہ آپریشن کے دوران متاثرین کو سہولیات فراہم کی گئیں، انخلا کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی گئیں۔ صرف تیراہ ہی نہیں بلکہ عوام کی نظروں سے اوجھل کرم میں بھی آپریشن شروع ہوا، انخلاء مکمل کیا گیا اور کیمپ قائم کیے گئے۔ یہ وہی معاملات ہیں جن پر ابتدا میں سخت مؤقف اختیار کیا گیا تھا، مگر اب رویے میں لچک دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری طرف انہیں اپنی ہی جماعت کے سوشل میڈیا دباؤ کا سامنا بھی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے وفاق اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا راستہ اختیار کیا۔ بظاہر یہ فیصلہ سیاسی طور پر مشکل ضرور ہے، مگر انتظامی اعتبار سے ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔

اب سہیل آفریدی محض ردِعمل دینے والے سیاستدان نہیں بلکہ فیصلے کرنے والے چیف ایگزیکٹو کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ شاید انہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ تصادم نہیں، مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عطا تارڑ کا عمران خان کی صحت اور سہیل آفریدی کے رویے سے متعلق اہم بیان

منزل ابھی دور ہے اور چیلنجز بھی کم نہیں، مگر اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو نہ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اتفاقِ رائے پیدا ہو سکتا ہے بلکہ وفاق کے ساتھ انتظامی اور مالی معاملات میں بھی پیش رفت ممکن ہے۔ شاید یہی اصل تبدیلی ہے،اور شاید یہی خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی

زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟

اسلام آباد مسجد حملہ، بھارت کا اظہارِ افسوس

مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا

اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!