وینیزویلا میں سیاسی قیدیوں کے لیے معافی بل کی منظوری

جمعہ 6 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وینیزویلا کی قومی اسمبلی نے صدر ڈیلسی روڈریگیز کی طرف سے پیش کردہ امانسی (معافی) بل کی پہلی منظوری دے دی ہے۔ اگر یہ بل حتمی طور پر منظور ہو گیا تو ملک بھر میں سیاست کی بنیاد پر قید ہزاروں افراد، جن میں مخالف رہنما، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں، رہا ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

صدر نے کہا کہ یہ اقدام امن اور قومی مفاہمت کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اسمبلی کے صدر جورج روڈریگیز نے عوام سے معافی مانگی اور کہا کہ ہم معافی مانگتے ہیں اور ہمیں بھی معاف کرنا چاہیے۔

اس بل کے تحت کچھ قیدیوں کے عہدے پر دوبارہ انتخاب کے حق بھی بحال ہو سکتے ہیں، جن میں نوبل انعام یافتہ رہنما ماریا کورینا مچادو شامل ہیں۔

بل ابھی دوسری بحث اور حتمی ووٹنگ سے گزرنا باقی ہے اور منظوری کے بعد صدر کے دستخط کی ضرورت ہوگی۔ تاہم، اس میں ایسے افراد شامل نہیں ہوں گے جو قتل، منشیات کے کاروبار یا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی جنگی بیڑہ کیرِیبیئن میں داخل؛ وینیزویلا کیخلاف کارروائی کا امکان بڑھ گیا

ماہرین کے مطابق یہ قانون وینیزویلا میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور لوگوں کو اپنے خاندانوں کے پاس واپس لانے کا اہم قدم ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی

زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟

اسلام آباد مسجد حملہ، بھارت کا اظہارِ افسوس

مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا

اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!