امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بنگلہ دیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے بعد دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ ایس پال کپور کے مارچ کے اوائل میں ڈھاکا کے دورے کا امکان ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مجوزہ دورے پر حالیہ ملاقاتوں میں تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں بنگلہ دیش میں تعینات امریکی سفیر برینٹ کرسٹینسن نے مشیرِ امورِ خارجہ ایم ڈی توحید حسین اور خارجہ سیکریٹری اسد عالم سیام سے ملاقات کی۔ اطلاعات ہیں کہ پال کپور نے 6 سے 9 مارچ کے درمیان ڈھاکا آنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی انتخابی مہم کے دوران وکیل کی جانب سے رقم دینے کی ویڈیو پر تنقید
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال فروری میں پال کپور کو اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔ بعد ازاں امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے اس نامزدگی کی منظوری دی اور اکتوبر میں ان کی تقرری کو حتمی شکل دی گئی۔
گزشتہ سال جون میں سینیٹ کی توثیقی سماعت کے دوران پال کپور نے بنگلہ دیش کو بھارت کے بعد جنوبی ایشیا کی دوسری بڑی معیشت قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ عہدہ سنبھالنے کی صورت میں ان کی ترجیحات میں امریکی سیکیورٹی مفادات کا فروغ، خطے میں چین کے اثر و رسوخ کا توڑ اور جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعاون میں اضافہ شامل ہوگا۔
امریکی سفیر برینٹ کرسٹینسن بھی خطے میں چین کے کردار پر خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ سینیٹ میں سابقہ سماعتوں اور بنگلہ دیشی میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے امریکا اور چین کے درمیان جغرافیائی سیاسی مسابقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن بیجنگ کے ساتھ روابط سے متعلق ممکنہ خطرات کے بارے میں ڈھاکا کی عبوری اور نو منتخب حکومت کو واضح طور پر آگاہ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ڈھاکا پولیس کے سابق سربراہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت
سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی سینیٹ میں ‘تھنک ٹوائس ایکٹ’ کی منظوری اور واشنگٹن کی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی کے اجرا کے بعد چین سے متعلق امریکی مؤقف مزید واضح ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پال کپور انتخابات کے بعد ڈھاکا کا دورہ کرتے ہیں تو وہ چین سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف براہِ راست بنگلہ دیش کی نئی حکومت تک پہنچائیں گے۔
موجودہ عہدہ سنبھالنے سے قبل پال کپور امریکی نیول پوسٹ گریجویٹ اسکول میں جنوبی ایشیا کی سیاست، سیکیورٹی اور بین الاقوامی تعلقات پڑھاتے رہے ہیں۔ وہ 2020 سے 2021 تک امریکی محکمہ خارجہ میں پالیسی پلاننگ کے عہدیدار بھی رہے، جہاں انہوں نے جنوبی و وسطی ایشیا، انڈو پیسفک حکمتِ عملی اور امریکا۔بھارت تعلقات پر کام کیا۔ وہ کلیئر مونٹ میکینا کالج میں بھی تدریسی فرائض انجام دے چکے ہیں اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں بطور وزٹنگ پروفیسر خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ پال کپور ایمہرسٹ کالج کے گریجویٹ ہیں اور یونیورسٹی آف شکاگو سے پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔














