پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سابق سربراہ جنید اکبر خان نے کہا کہ پی ٹی آئی تو ان کی جماعت ہے جس سے انہیں عمران خان بھی نہیں نکال سکتے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدرجنید اکبر نے وضاحت کی کہ نہ وہ پارٹی چھوڑ سکتے ہیں، نہ ہی کوئی انہیں پارٹی سے نکال سکتا ہے۔
’پارٹی تو میری ہے میں نے یہ کہا تھا کہ میں اسپیکر سے صاف کہوں گا کہ مجھے الگ نشست دلائی جائے۔ ‘آپ کی پارلیمانی کمیٹی میں بھی نہیں بیٹھتا آپ کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔
یہ بھی پڑھیں: جنید اکبر پی ٹی آئی سے سخت ناراض، پارٹی چھوڑنے کی دھمکی
’یہ بات نہیں ہے، شکایتوں سے تو مجھے میرا خان بھی نہیں نکال سکتا، وہ تو میری ہے۔’
واضح رہے کہ جنید اکبر نے یہ وضاحت اس وقت دی ہے کہ جب گزشتہ روز ان کی ایک آڈیو لیک ہوئی تھی، جس میں انہیں پارٹی تک چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے سناجاسکتا ہے۔
آڈیو فائل کے مطابق پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر و رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی اور قیادت کے رویے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی دی تھی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی ہدایت، جنید اکبر نے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیدیا
مذکورہ آڈیو لیک میں جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ان کی برداشت ختم ہو چکی ہے اور وہ آج کے بعد نہ تو پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ رہیں گے، اور نہ ہی چیف وہپ، پارلیمانی لیڈر یا کسی اور عہدے دار کو تسلیم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں فیصلے چند افراد روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں جبکہ دیگر اراکین کو ایوان میں بولنے کا موقع تک نہیں دیا جاتا، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے شکوہ کیا تھا کہ وہ سال میں چند ہی مواقع پر اسمبلی میں بولے ہیں، جبکہ بجٹ اور اہم معاملات میں بھی نظر انداز کیا جاتا رہا۔
مزید پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے حق کا ساتھ دیا، خیبرپختونخوا کو نیا وزیر اعلیٰ مل گیا، جنید اکبر خان
جنید اکبر نے سوال اٹھایا کہ کیا منتخب نمائندے روزانہ صرف رسمی حاضری کے لیے آتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر شرافت اور برداشت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر نے مزید کہاکہ دہشتگردی جیسے سنگین معاملات پر بھی کسی میں یہ ہمت نہیں کہ سوال کرے کہ صوبائی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری کیا ہے، جبکہ روزانہ معمولی باتوں پر مذاق اور تنقید کی جاتی ہے۔
جنید اکبر نے پارلیمانی کمیٹی سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آئندہ اسپیکر سے براہِ راست رابطہ کرکے آزاد حیثیت میں بیٹھنے کی درخواست کریں گے۔
’آپ لوگ بھاڑ میں جائیں، میں کل اسپیکر کو باضابطہ طور پر درخواست کروں گا مجھے اسمبلی میں الگ نشست الاٹ کی جائے۔‘













