بنگلہ دیش انتخابات: 170 نشستوں  کیساتھ بی این پی بڑی کامیابی کی جانب گامزن، غیر سرکاری نتائج میں واضح برتری

جمعرات 12 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رپورٹنگ: مقتدر راشد (بنگلہ دیش) اور فیصل کمال پاشا

بنگلہ دیش کے 13ویں قومی انتخابات اور ریفرنڈم میں بی این پی بڑی کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ غیر سرکاری نتائج اور پارٹی اعداد و شمار کے مطابق صبح 3:50 بجے تک بی این پی اور اس کے اتحادی 170 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے تھے۔ ملک بھر میں ووٹنگ پر امن اور خوشگوار ماحول میں ہوئی، جسے ایک تاریخی انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی، جو تقریباً 2 دہائیوں سے اقتدار سے باہر تھی، 2 تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے پر امید ہے۔ پارٹی کے مرکزی الیکشن اسٹیئرنگ کمیٹی کے ترجمان مہدی امین نے کہا کہ موصولہ ووٹوں اور نشست وار تفصیلات کی بنیاد پر وہ اس کامیابی کے بارے میں بہت پُرامید ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کوئی پوشیدہ منصوبہ بندی نہیں، نجی ذرائع کے اعدادو شمار سرکاری نہیں، چیف الیکشن کمشنر بنگلہ دیش

جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے اور پارٹی کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 60 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جو طلبہ تحریک کے بعد وجود میں آئی، نے بھی 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال مکمل سرکاری نتائج جاری نہیں کیے گئے، تاہم مختلف حلقوں کے جزوی غیر سرکاری نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ صبح 3:50 بجے تک مجموعی ٹرن آؤٹ کا باضابطہ اعلان بھی نہیں کیا گیا تھا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان اور سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے اپنی اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ طارق رحمان، جو 17 سال بعد برطانیہ سے وطن واپس آئے، ڈھاکہ-17 اور بوگرا-6 دونوں نشستوں سے کامیاب ہوئے۔

بی این پی کے دیگر اہم رہنماؤں میں خندکار مشرف حسین، مرزا عباس، عبدالمعین خان، امیر خسرو محمود چوہدری اور صلاح الدین احمد شامل ہیں جو اپنی اپنی نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش انتخابات: شیرپور‑3 میں امیدوار کی وفات، ووٹنگ ملتوی

دوسری جانب جماعت اسلامی اور این سی پی کے کئی رہنما بھی اپنے حلقوں میں آگے ہیں۔

انتخابی مہم 20 روز تک جاری رہی جس میں ملک بھر میں سیاسی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ اس انتخاب میں تجربہ کار سیاستدانوں کے ساتھ نئی نسل کے رہنماؤں نے بھی بھرپور حصہ لیا۔

مجموعی طور پر یہ انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے اور عوام کی بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جسے ملک کی جمہوری تاریخ کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

موجودہ ووٹنگ رجحان برقرار رہا تو نتائج قبول کریں گے، امیر جماعتِ اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمان

بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ اگر ووٹنگ کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو جماعت انتخابی نتائج کو قبول کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی نتائج میں کئی علاقوں سے سبقت کے اشارے مل رہے ہیں، تاہم حتمی نتیجے کے لیے انتظار ضروری ہے۔

ڈھاکہ-15 میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت کو عوام پر مکمل اعتماد ہے اور ملک کا مفاد اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خوف و ہراس ضرور پھیلایا گیا، تاہم کوئی بڑی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ سمندر پار ووٹرز کی شرکت خوش آئند ہے اور اگر اقتدار ملا تو ان کے حقوق اور سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا۔

مخالف امیدواروں سے متعلق انہوں نے کہا کہ جو بھی کامیاب ہوگا، اس کی فتح کو تسلیم کریں گے، اور اگر وہ منتخب ہوئے تو سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر سے منسلک آئینی اصلاحات پر قومی ریفرنڈم کے لیے ملک بھر میں ووٹنگ کا وقت ختم ہوگیا اور اب گنتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

ووٹنگ کا آغاز جمعرات کو صبح 7:30 بجے ہوا۔ دن کے آغاز میں کچھ پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی طویل قطاریں دیکھی گئیں، جس سے عوام کے انتخابی جوش و خروش  کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دارالحکومتڈھاکہ کے کئی پولنگ مراکز پر ووٹنگ کا عمل زیادہ تر پُرامن دیکھا جارہا ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق ملک بھر کے 36,000 سے زائد پولنگ مراکز میں تقریباً 48 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔۔

شیرپور-3 کی نشست پر ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ منسوخ ہونے کے بعد 300 میں سے 299 حلقوں میں رائے دہی ہو رہی ہے۔

تقریباً 12 کروڑ 70 لاکھ اہل ووٹرز آج بنگلہ دیش میں ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان عام انتخابات کو اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کی جمہوریت کی بحالی کا ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش عام انتخابات 2026 میں مقابلہ براہِ راست بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں انتخابی اتحاد اور جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 11 جماعتوں کے اتحاد کے درمیان ہے۔

جماعت اسلامی کے اتحادیوں میں نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) بھی شامل ہے، جسے ان نوجوان کارکنوں نے تشکیل دیا تھا جنہوں نے شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بنگلہ دیش عام انتخابات 2026 آزادانہ، منصفانہ اور پرجوش رہے: آئی آر آئی مبصر ڈیوڈ ڈریئر

سابق امریکی رکن کانگریس اور انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ (IRI) کے انتخابی مبصر مشن کے سربراہ ڈیوڈ ڈریئر نے بنگلہ دیش کے قومی انتخابات کو ’آزاد، منصفانہ اور پُرجوش‘ قرار دیتے ہوئے ملک کے جمہوری عمل پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کو گلشن کے منارات انٹرنیشنل اسکول اینڈ کالج کے پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد ڈھاکہ ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے ڈریئر نے کہا کہ انہوں نے ووٹنگ کا منظم ماحول اور عوام میں بھرپور جوش و خروش دیکھا۔

انہوں نے کہا ’آج اس شاندار ملک کی تاریخ کا ایک نہایت اہم اور پُرجوش دن ہے۔ یہ میرا بنگلہ دیش کا پہلا دورہ ہے اور میں یہاں لوگوں میں جوش، خوشی اور تہوار جیسا ماحول واضح طور پر محسوس کر رہا ہوں۔‘

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ انتخابی عمل ملک میں جمہوری روایات کو مزید مضبوط کرے گا۔

مسلح افواج دیانتدار رہیں تو ملک کو اچھا الیکشن ملے گا، امیرِ جماعت اسلامی

جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ اگر مسلح افواج اپنی ذمہ داریاں خلوص نیت سے ادا کریں تو دن کے اختتام تک قوم کو ’اچھا الیکشن‘ مل سکتا ہے، تاہم انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد واقعات اور بے ضابطگیوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

وہ ڈھاکہ 15 کے حلقے میں اپنے مرکزی انتخابی دفتر میں دوپہر 2 بجے کے بعد بریفنگ دے رہے تھے۔

شفیق الرحمان نے کہا کہ اگر مسلح افواج دیانتداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دیں تو ہمیں امید ہے کہ دن کے اختتام تک قوم کو اچھی ووٹنگ اور اچھا الیکشن ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اچھا الیکشن ہوگا تو اچھی حکومت بنے گی، ایسی حکومت جو عوام کے بارے میں سوچے گی۔ لیکن اگر دھاندلی اور جعلسازی سے حکومت بنی تو وہ عوام کے دکھ درد کو نہیں سمجھے گی اور نہ ہی ان سے اس کا کوئی رشتہ ہوگا۔

جماعتِ اسلامی کے امیر نے صبح میرپور کے 60 فٹ علاقے میں منی پور ہائی اسکول (بوائز سیکشن) کے پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہاں صورتحال معمول کے مطابق تھی اور ووٹرز کی موجودگی نمایاں تھی۔ بعد میں میں نے کئی مراکز کا دورہ کیا۔ ایک دو مراکز کے علاوہ مجموعی طور پر ٹرن آؤٹ تسلی بخش تھا۔

امیر جماعت اسلامی نے الزام لگایا کہ منی پور ہائی اسکول (گرلز سیکشن) کے پولنگ اسٹیشن میں مخالف امیدوار کے کارکنان زبردستی داخل ہوئے اور ووٹرز کو خوفزدہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس مرکز میں تقریباً 26 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ اچانک ہمارے حریف جماعت کے کچھ افراد بے قابو انداز میں اندر داخل ہوئے، انہوں نے ووٹرز کو ڈرایا دھمکایا اور ہمارے حامیوں کو جسمانی طور پر ہراساں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر وہ خود مرکز پہنچے جہاں ایک فوجی افسر صورتحال سنبھال رہے تھے۔

ہم نے دیکھا کہ ایک فوجی افسر نہایت ذمہ داری سے معاملات کو کنٹرول کر رہے تھے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صورتحال قابو میں ہے۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد صرف متعلقہ سرکاری اہلکاروں اور امیدواروں کے ایجنٹس کو ہی مرکز میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے اور باہر غیر ضروری ہجوم یا کشیدگی کو روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ووٹنگ پُرامن ہو اور ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ ڈال سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف علاقوں میں بی این پی امیدواروں کے کارکنوں نے مسائل پیدا کیے۔

’ہمیں خدشہ ہے کہ اگر ووٹوں کی گنتی کے دوران بدامنی ہوئی تو نتائج عوامی امنگوں کی عکاسی نہیں کریں گے۔‘

دوپہر تقریباً 2:15 بجے انہوں نے کہا کہ عوام کی مسلسل آمد کو دیکھتے ہوئے وہ پُرامید ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ٹرن آؤٹ مزید بہتر ہو سکتا ہے۔

 خواتین ووٹرز کی بھرپور شرکت، دوپہر کے بعد پولنگ مراکز پر رش بڑھ گیا

جمعرات کو قومی انتخابات کے دوران دارالحکومت کے مختلف پولنگ مراکز پر خواتین ووٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے انتخابی ماحول مزید پُرجوش اور ہمہ گیر بن گیا۔

صبح کے اوقات میں خواتین ووٹرز کی حاضری نسبتاً کم رہی، تاہم ڈھاکہ 5، ڈھاکہ 6، ڈھاکہ 8، ڈھاکہ 9 اور ڈھاکہ 11 کے حلقوں میں دوپہر کے بعد خواتین کی شرکت میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا۔

ابتدائی گھنٹوں میں زیادہ تر بزرگ مرد ووٹرز پولنگ اسٹیشنز پر نظر آئے جبکہ خواتین اور نوجوانوں کی تعداد کم تھی۔

ارم باغ ہائی اسکول اینڈ کالج کے پریذائیڈنگ آفیسر توحین احمد کے  مطابق ’جیسے جیسے دن آگے بڑھ رہا ہے، خواتین ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

مرزا عباس محلہ کالج میں خواتین کی طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں، جہاں وہ صبر کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔

نیلوفا اختر ملی نامی ایک خاتون ووٹر نے بتایا کہ وہ صبح کے گھریلو کام مکمل کرنے کے بعد ووٹ ڈالنے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ناشتہ اور کھانا تیار کرنے کے بعد یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔ اب یہاں خواتین کی لمبی قطار لگی ہوئی ہے۔

افسانہ نامی ایک اور خاتون، جو پہلی بار ووٹ ڈال رہی تھیں، نے کہا کہ طویل انتظار کے باوجود وہ بہت پُرجوش ہیں۔

خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ کچھ ووٹرز نے شکایت کی کہ صبح 11 بجے کے بعد ووٹنگ کا عمل سست ہو گیا، جس کی وجہ سے انہیں طویل وقت تک قطار میں کھڑا رہنا پڑا۔

ڈھاکہ-6 کے حلقے میں قاضی نذر الاسلام گورنمنٹ کالج کے پریذائیڈنگ آفیسر شفیق الاسلام کے مطابق خواتین ووٹرز نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور بلا جھجھک پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس مرکز پر 4 ہزار سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے تقریباً ایک ہزار افراد صبح 11 بجے تک ووٹ ڈال چکے تھے۔

بی ٹی سی ایل آئیڈیل اسکول کے پریذائیڈنگ آفیسر خسرو میاں نے بھی سیکیورٹی خدشات کی تردید کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دوپہر کے بعد خواتین کی تعداد مزید بڑھے گی۔

ملک کے کل 12 کروڑ 77 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 6 کروڑ 28 لاکھ خواتین ہیں، جو تقریباً نصف الیکٹوریٹ بنتی ہیں۔

انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کی پُرجوش اور خود رو شرکت نے انتخابات کو مزید جامع، شفاف اور متحرک بنا دیا ہے۔

ڈر کے بغیر ووٹ ڈالیں، بنگلہ دیشی آرمی چیف کی عوام سے اپیل

بنگلہ دیش کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وقارالزمان نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس دن کے منتظر تھے اور امید رکھتے تھے کہ یہ ایک منصفانہ الیکشن ہوگا۔

جنرل وقارالزمان نے آدم جی کینٹونمنٹ کالج کے پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ووٹنگ جاری ہے۔ پولنگ کے لیے سازگار ماحول قائم ہے۔ ملک بھر سے مجھے معلومات موصول ہوئی ہیں اور میری رپورٹ کے مطابق ہر جگہ ووٹنگ پُرامن طریقے سے جاری ہے۔

آرمی چیف نے عوام پر زور دیا کہ وہ پولنگ اسٹیشنز جائیں اور خوف کے بغیر اپنے ووٹ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے لیے ایک بہت اہم دن ہے، اور ہر شہری کی شرکت ملک کے لیے اہم ہے۔

جنرل وقار الزمان نے میڈیا نمائندوں کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اگرچہ انہیں ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن عوام کو صورتحال سے آگاہ کرنا اور شہریوں کو ووٹنگ کے لیے حوصلہ دینا ان کی اہم ذمہ داری ہے۔

بعض خواتین اور اقلیتی لوگ جماعت اسلامی کو کیوں ووٹ دینا چاہتے ہیں؟ الجزیرہ رپورٹ

بنگلہ دیش میں آج ملک کی سیاست کے منظرنامے میں اہم تبدیلی کے بعد پہلے عام انتخابات ہو رہے ہیں۔

الجزیرہ نے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی مذہبی اور قدامت پسند پارٹی ملک کی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہی ہے، جو طویل عرصے تک عوامی لیگ (Awami League) اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) کے زیر اثر تھی۔

مقامی شہریوں نے بتایا کہ کئی سالوں بعد انہیں مقابلہ جاتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملا ہے، اور وہ تبدیلی کی امید کے ساتھ ووٹنگ کر رہے ہیں۔

شیخ حسینہ کی قیادت والی پچھلی حکومت کے دوران جماعت اسلامی کو دہائیوں تک انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا۔ اس دوران پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کوپھانسی دے دی گئی یا انہیں جیل میں بند کردیا گیا یا پھر لاپتہ کردیے گئے۔ جماعت کی جڑیں 1940 کی دہائی میں بھارت میں قائم ایک پان اسلامسٹ تحریک تک جاتی ہیں۔

حریف حلقوں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی اب بھی ایک اسلامی ریاست چاہتی ہے، لیکن جماعت خود دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا سیاسی پروگرام بنگلہ دیش کے سیکولر نظام کے دائرے میں ہے۔

2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی تحریک نے حسینہ کو بھارت بھجوا دیا اور عبوری حکومت نے جماعت پر عائد پابندیاں ختم کر دی۔ اب جماعت اسلامی سیاسی میدان میں قدم جما رہی ہے۔

اگرچہ جماعت کے ناقدین اس پر خواتین کے حقوق اور مذہبی اقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے تنقید کرتے ہیں، لیکن بعض شہریوں کا خیال ہے کہ یہ پارٹی انتہا پسندی کی طرف نہیں جائے گی کیونکہ اس کے ڈھانچے میں خواتین بھی سرگرم ہیں اور پارٹی کی تنظیم بندی مستحکم ہے۔

عوامی لیگ کے میدان سے باہر ہونے کے بعد، جماعت اسلامی خود کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کا اہم حریف ثابت کر رہی ہے۔ موجودہ سروے اور پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ بہت سخت ہے، اس لیے انتخابات کا نتیجہ غیر یقینی ہے۔

ضلع گوپال گنج کے پولنگ اسٹیشن پر دھماکا، 3 افراد زخمی

بنگلہ دیش کے ضلع گوپال گنج کے صدر اپوزیلا میں واقع ریشما انٹرنیشنل اسکول کے پولنگ اسٹیشن پر دھماکا خیز مواد پھینکے جانے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوگئے۔

بنگلہ دیش کے معروف اخبار ’پروتھوم آلو‘ کے مطابق سب انسپکٹر جہاد الاسلام، جو اس وقت پولنگ اسٹیشن پر ڈیوٹی پر موجود تھے، نے بتایا کہ ووٹنگ کا عمل پُرامن طریقے سے جاری تھا کہ نامعلوم افراد نے اسکول کے باہر نہر کے پار سے دیسی ساختہ بم (کاک ٹیل) پھینک دیے۔

حملے کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی نیم فوجی فورس انصار کے 2 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ 14 سالہ آمنہ خانم بھی زخمی ہوگئیں، جو ایک ووٹر کے ساتھ آئی تھیں۔

دھماکے کی آواز سے پولنگ اسٹیشن پر موجود ووٹرز میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس کے مطابق پولنگ اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

یہ بنگلہ دیش کے لیے آزادی کا دن ہے، ڈاکٹر محمد یونس

بنگلہ دیش کے عبوری رہنما محمد یونس نے ڈھاکہ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد آج کے انتخابی دن کو ’پورے بنگلہ دیش کے لیے ایک عظیم دن‘ قرار دیا ہے۔

ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد یونس نے کہا کہ آج کا انتخاب ملک میں ایک تاریخی تبدیلی کی شروعات ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج سے ہمیں ہر قدم پر ایک نیا بنگلہ دیش تعمیر کرنے کا موقع ملا ہے۔

یونس نے اس بات پر زور دیا کہ امیدواروں کو ووٹ دینا یقیناً اہم ہے، تاہم ریفرنڈم کو انہوں نے ’خصوصی طور پر اہم‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کے نتائج ملک کی سمت بدل سکتے ہیں اور یہ قومی مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔

جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے محمد یونس نے کہا کہ یہ میری زندگی کا ایک عظیم دن ہے اور پورے بنگلہ دیش کے لیے بھی ایک عظیم دن ہے، یہ آزادی کا دن ہے۔ یہ ہمارے ڈراؤنے خوابوں کے خاتمے اور ایک نئے باب کے آغاز کی علامت ہے۔

عبوری رہنما نے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل ملک میں استحکام، جمہوریت اور مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھے گا، اور بنگلہ دیش ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے

بھرپور ٹرن آؤٹ، ’اسٹیجڈ الیکشن‘ کا دور ختم ہوگیا، بنگلہ دیشی چیف الیکشن کمشنر

بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے کہا ہے کہ آج کی ووٹنگ ماضی کے ’منظم اور اسٹیجڈ انتخابات‘ اور بیلٹ باکس چھیننے کی روایت سے واضح انحراف ہے، جبکہ ملک بھر میں ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی ہے۔

ڈھاکہ میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر الدین نے کہا کہ پولنگ عملے کو سختی سے غیر جانبدار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ’اس ملک میں اب کوئی اسٹیجڈ الیکشن نہیں ہوگا۔ ہمیں پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے اور بیلٹ باکس چھیننے کی تاریخ کو بھلا دینا ہوگا۔‘

خواتین اور نوجوانوں کی بھرپور شرکت

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق ووٹنگ میں خاص طور پر خواتین اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، جو الیکشن کمیشن پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو اعتماد نہ ہوتا تو وہ ووٹ ڈالنے نہ آتے۔

ناصر الدین نے بتایا کہ شدید دھند کے باوجود دیہی علاقوں میں صبح سویرے ہی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔

انہوں  نے خبردار کیا کہ غلط معلومات اور پروپیگنڈا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ مواد۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی سے تیار کردہ مواد ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ 50 فیصد سے زائد گمراہ کن معلومات ملک سے باہر سے پھیلائی جا رہی ہیں، جہاں ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حکمت عملی جھوٹی خبروں کا مقابلہ مصدقہ معلومات سے کرنا ہے، اور مرکزی دھارے کے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ووٹنگ کے عمل کے دوران درست معلومات کی فراہمی میں تعاون کرے۔

’جمہوریت کی ٹرین پر سوار ہو چکے ہیں‘

ناصر الدین نے ووٹنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن قوم کو جشن کے ماحول میں انتخابات کا تحفہ دینا چاہتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے لوگ اپنے آبائی علاقوں کی طرف اسی طرح جا رہے ہیں جیسے عید منانے گھر جاتے ہیں تاکہ ووٹ ڈال سکیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش جمہوریت کی ٹرین پر سوار ہو چکا ہے اور جلد اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔

ناصر الدین کے مطابق حالیہ دنوں میں انہوں نے درجنوں بین الاقوامی انتخابی مبصرین اور واچ ڈاگ تنظیموں سے ملاقاتیں کیں، جنہوں نے انتخابی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مبصرین الیکشن کمیشن کے اقدامات سے بہت مطمئن ہیں۔

طارق رحمان کو کامیابی کا مکمل یقین، ووٹ ڈالنے کے بعد بڑا بیان

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین اور ڈھاکہ-17 سے جماعت کے انتخابی نشان ’دھان کی بالی‘ کے امیدوار طارق رحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد اپنی کامیابی کے حوالے سے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’100 فیصد پُرامید‘ ہیں کہ کامیابی ان ہی کی ہوگی۔

طارق رحمان نے جمعرات کی صبح گلشن کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام اس دن کا ایک دہائی سے زیادہ  عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہری بھرپور جوش و خروش کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیں گے اور ملک میں ’ایک نئے جمہوری بنگلہ دیش‘ کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

رات کے دوران پیش آنے والے چند چھوٹے واقعات کے حوالے سے سوال پر طارق رحمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مؤثر اور سخت کارروائی کی، جو ایک حوصلہ افزا بات ہے۔

انہوں نے ووٹرز اور پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پورا دن پولنگ اسٹیشنز پر مستعد رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی بھرپور شرکت کسی بھی ’سازش کو ناکام بنانے‘ میں مددگار ثابت ہوگی۔

انتخابی نتائج سے متعلق سوال پر طارق رحمان نے پراعتماد انداز میں کہا کہ وہ اور ان کی جماعت ’کامیابی کے لیے مکمل طور پر پُرامید‘ ہیں۔

طارق رحمان نے کہا کہ اگر ان کی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو امن و امان کی بہتری اولین ترجیح ہوگی تاکہ عام شہری خود کو ملک میں محفوظ محسوس کریں۔

انہوں نے خواتین کی شمولیت اور بااختیار بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ خواتین آبادی کا نصف حصہ ہیں اور انہیں نظر انداز کرکے ترقی ممکن نہیں۔

ملک بھر میں ووٹنگ کے مجموعی ماحول سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا، وہ صورتحال کا مزید جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی تبصرہ کریں گے۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر طارق رحمان نے ملک کے لیے  پرامن اور مستحکم مستقبل کی امید کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

زندگی کا پہلا ووٹ

بنگلہ دیش بھر میں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا عمل پُرامن ماحول میں جاری ہے، جہاں نوجوانوں سے لے کر سیاسی قائدین تک نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ مراکز پر 300 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں، اور اس جمہوری عمل میں شہریوں نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

ڈھاکہ کے مختلف پولنگ مراکز پر صبح سے ہی ووٹرز کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جہاں وقارالنسا نون اسکول اینڈ کالج کی طالبہ عافیہ جنت نے اپنی زندگی کا پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔

ٹیکاٹولی کے قمرالنسا گرلز ہائی اسکول پولنگ سینٹر کے باہر اپنی والدہ کے ہمراہ کھڑی عافیہ نے اس موقع کو اپنی نسل کے لیے غیر معمولی قرار دیا۔

’جولائی کی تحریک اور اس میں دی جانے والی قربانیوں نے اس انتخاب کو ایک خاص معنی دے دیا ہے، پہلی بار شہری حق استعمال کرنے کا تجربہ خوشگوار رہا اور پولنگ سینٹر کا ماحول منظم اور سازگار تھا۔‘

عافیہ کے مطابق نوجوان ووٹرز کے لیے یہ انتخاب محض آئینی تقاضا نہیں بلکہ طلبا تحریک کے تسلسل کی علامت بھی ہے جس نے ملک کی سیاسی سمت کو بدل کر رکھ دیا۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں

سیاسی قیادت نے بھی مختلف علاقوں میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے ٹھاکرگاؤں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

نیشنل سٹیزنز پارٹی یعنی این سی پی کے کنوینر ناہید اسلام نے اے کے ایم رحمت اللہ یونیورسٹی کالج میں ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کی، ادھر بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے میرپور کے منی پور ہائی اسکول میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

یورپی یونین کے انتخابی مبصر مشن کے سربراہ آئیورس ایجابس نے بھی ڈھاکہ میں پولنگ کے آغاز کا مشاہدہ کیا اور اسے بنگلہ دیش کی جمہوریت کے لیے بڑا دن قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی انتخابات اور ریفرنڈم کا بیک وقت انعقاد ملک کے جمہوری عمل کی اہم پیش رفت ہے، اور مبصرین ملک بھر میں ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے

مجموعی طور پر انتخابی دن کو نوجوانوں کے جوش، سیاسی قیادت کی شرکت اور بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی نے ایک اہم جمہوری مرحلے کی صورت دے دی ہے، جسے کئی شہری مستقبل کی سیاسی سمت کے تعین میں فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔

قومی پارلیمان کے 13ویں عام انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے صبح 7 بج کر 30 منٹ پر ووٹنگ کے باقاعدہ آغاز سے ایک گھنٹہ قبل ہی پولنگ اسٹیشنوں کے باہر ووٹرز کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ متعدد مراکز پر جشن کا سا ماحول تھا، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے اور سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات تھے۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں تاریخی انتخابات، آئینی ڈھانچے میں بڑی اصلاحات کی راہ ہموار

حکام کے مطابق انتخابات میں 50 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ مجموعی طور پر 2,028 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں 1,755 جماعتی امیدوار اور 273 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ امیدواروں میں 83 خواتین (63 جماعتی، 20 آزاد) اور 1,946 مرد شامل ہیں۔

ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ ہے، جن میں قریباً 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی نگرانی اور سکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔

انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے 69 ریٹرننگ افسران اور 598 اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ 7 لاکھ 85 ہزار 225 پولنگ اہلکار ووٹنگ کے عمل میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تیاریاں مکمل، 394 بین الاقوامی مبصرین، 197 غیرملکی صحافی مشاہدہ کریں گے

سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ایک لاکھ 3 ہزار سے زائد فوجی اہلکار، 1 لاکھ 87 ہزار 603 پولیس اہلکار اور 9,349 ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB)، بحریہ، فضائیہ، کوسٹ گارڈ اور انصار کے اہلکار بھی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔

یورپی یونین سمیت بین الاقوامی مبصرین بھی مختلف پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث ان انتخابات کو اندرون اور بیرون ملک گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش میں آج انتخابات، حسینہ واجد حکومت گرائے جانے کے بعد سے الیکشن تک کا غیر معمولی سفر

5 اگست 2024 سابق وزیراعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد کا حکومت میں آخری دن تھا جب پُرتشدد مظاہروں کے بعد حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا، اور ایک عبوری نظام نے اس کی جگہ لی جس کی سربراہی گرامین بینک چھوٹے قرضوں سے شہرت پانے والے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کے حصے میں آئی۔ حسینہ واجد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئیں جبکہ بنگلہ دیش میں عدالتی ٹرائل کے ذریعے اُنہیں سزائے موت دی گئی۔

سب سے مُشکل سوال یہ تھا کہ ملک میں عالمی طور پر قابلِ قبول آئینی اور سیاسی حکومت کی تشکیل کے لیے انتخابات کب اور کیسے کرائے جائیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: اے بی پارٹی نے مختلف راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا

آج بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہیں، ملک بھر سے لوگ بسوں اور ٹرینوں پر سوار کر اپنے آبائی علاقوں میں ووٹ ڈالنے پہنچ رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بُنیادی طور پر 3 سیاسی جماعتیں، بنگلہ دیش نیشنل پارٹی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعت اِسلامی مدمقابل ہیں۔

جماعتِ اِسلامی بنگلہ دیش نے حسینہ واجد کے دور میں ایک مُشکل وقت گزارا ہے، جب 2010 میں بننے والے ٹربیونلز کے ذریعے جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی کی سزائیں دی گئیں۔

بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات ملک کی سیاسی تاریخ کے ایک غیر معمولی موڑ پر منعقد ہو رہے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ پہلا بڑا انتخابی معرکہ ہے جس نے پورے سیاسی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

انتخابی فضا میں روایتی طاقت کے مراکز کمزور ہوئے ہیں جبکہ نئی جماعتیں اور نئے بیانیے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اس بار مقابلہ محض اقتدار کا نہیں بلکہ ریاست کے سیاسی ڈھانچے، جمہوری سمت اور سماجی ترجیحات کے تعین کا بھی ہے۔

اہم سیاسی جماعتیں اور مقابلے کی نوعیت

اس انتخاب میں سب سے نمایاں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ہے جو  تبدیلی اور گورننس اصلاحات کا نعرہ لگا رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں جماعتِ اسلامی اور اس کے اتحادی مذہبی و سماجی اقدار پر مبنی نظام کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہیں۔

تیسری قابلِ ذکر قوت نیشنل سٹیزن پارٹی ہے، جو نوجوانوں اور سول سوسائٹی سے ابھری ایک اصلاح پسند جماعت سمجھی جا رہی ہے۔

سابق حکمران جماعت عوامی لیگ اس انتخابی دوڑ میں مؤثر طور پر موجود نہیں، جس سے سیاسی مقابلہ ایک نئے توازن کی طرف مڑ گیا ہے۔

بی این پی کا منشور: معیشت، ماحولیات اور حکمرانی

بی این پی کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ معاشی بحالی، روزگار کے مواقع اور شفاف حکمرانی ہے۔ پارٹی نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے، صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا وعدہ کر رہی ہے۔

اس کے منشور میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر شجرکاری، ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں اضافہ شامل ہے۔ بی این پی بدعنوانی کے خاتمے، عدالتی نظام کی مضبوطی اور ریاستی اداروں میں شفافیت کے قیام کو بھی بنیادی اہداف کے طور پر پیش کررہی ہے۔

جماعتِ اسلامی کا بیانیہ: سماجی نظم اور اخلاقی ریاست

جماعتِ اسلامی اپنی مہم میں ایک ’محفوظ اور اخلاقی بنگلہ دیش‘ کا تصور پیش کررہی ہے۔ اس کا زور معاشرتی اقدار، قانون کی عملداری اور کرپشن کے خاتمے پر ہے۔ پارٹی سماجی انصاف، کم آمدنی والے طبقات کے تحفظ اور فلاحی پروگراموں کی توسیع کی بات کرتی ہے۔

اس کے بیانیے میں مذہبی شناخت اور روایتی سماجی ڈھانچے کا تحفظ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، تاہم ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس کی بعض پالیسیوں سے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP): اصلاحات اور نوجوانوں کی آواز

نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نسبتاً نئی جماعت ہے جو 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد نمایاں ہوئی۔ اس کا منشور جمہوری اصلاحات، آئینی توازن، آزاد میڈیا اور شہری آزادیوں کے گرد گھومتا ہے۔

پارٹی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع اصلاحات، سب کے لیے صحت کی سہولیات اور جدید تعلیمی نظام کے قیام کی بات کرتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ماحولیاتی تحفظ بھی اس کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ این سی پی خاص طور پر شہری نوجوان ووٹرز میں مقبولیت حاصل کررہی ہے جو روایتی سیاست سے ہٹ کر شفاف اور جوابدہ نظام چاہتے ہیں۔

انتخابی نعرے اور عوامی ترجیحات

مجموعی طور پر انتخابی مہم میں جو موضوعات نمایاں ہیں ان میں روزگار، انصاف، شفاف حکمرانی، تعلیم، صحت اور شہری آزادی شامل ہیں۔ نوجوان ووٹرز جمہوری حقوق اور معاشی مواقع کے خواہاں ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں معاشی استحکام اور سماجی تحفظ اہم مطالبات ہیں۔

خواتین اور اقلیتی حقوق بھی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخاب محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی سمت کے تعین کا بھی ذریعہ ہے۔

حسینہ واجد کے بعد کا سیاسی ماحول

شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد سیاسی خلا پیدا ہوا ہے جس نے نئی قوتوں کو ابھرنے کا موقع دیا۔ ریاستی اداروں کی غیرجانبداری، آزاد انتخابی عمل اور جمہوری بحالی کی امیدیں اس انتخاب سے وابستہ ہیں۔ تاہم سیاسی تقسیم گہری ہے اور مختلف نظریاتی دھڑوں کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انتخابات بنگلہ دیش کے مستقبل کے سیاسی ڈھانچے اور جمہوری روایات کے لیے ایک فیصلہ کن مرحلہ سمجھے جا رہے ہیں۔

یہ پورا انتخابی منظرنامہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش ایک نئے سیاسی دور کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں عوام کی ترجیحات، نوجوانوں کی شرکت اور گورننس کے معیار آئندہ برسوں کی سمت متعین کریں گے۔

حسینہ واجد کا اقتدار ختم ہونا اور عوامی احتجاج

5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش میں ایک طلبہ اور عوامی احتجاج کے دوران وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے استعفیٰ دیا اور ملک چھوڑ کر چلی گئیں۔

لوگ کشتی کے نچلے حصے میں بیٹھے اپنے گاؤں واپس جانے کے منتظر ہیں تاکہ انتخابات میں ووٹ ڈال سکیں۔

یہ احتجاج ابتدا میں صرف سرکاری نوکریوں میں کوٹہ نظام کی اصلاح کے لیے شروع ہوا تھا، لیکن آہستہ آہستہ ملک گیر عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گیا جس نے 15 سالہ اقتدار ختم کردیا۔ احتجاج شدت پکڑ گیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، اور بالآخر حسینہ واجد کو مستعفی ہونا پڑا۔

عبوری حکومت کا قیام اور آئینی خلا

حسینہ واجد کے استعفیٰ کے بعد ملک میں آئینی خلا پیدا ہوا کیونکہ بنگلہ دیش کے موجودہ آئین میں براہِ راست نگران حکومت کے قیام کا واضح ضابطہ موجود نہیں تھا۔

اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ملک میں عبوری حکومت قائم کی گئی جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے سنبھالی۔ عبوری حکومت نے امید ظاہر کی کہ وہ ملک میں جمہوری بحالی اور شفاف انتخابات کا عمل مکمل کرے گی، اور اسی تناظر میں انتخابی تاریخوں اور اصلاحات پر مباحثے شروع ہوئے۔

سیاسی عدم استحکام اور اجتماعی کشمکش

اس عبوری دور میں سیاسی فضا انتہائی کشیدہ رہی۔ بنگلہ دیش بھر میں سیکیورٹی خدشات، احتجاج، اور سیاسی تناؤ برقرار رہے۔ سابق حکمران پارٹی عوامی لیگ پر پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے تحت اس پارٹی کی رجسٹریشن معطل ہو گئی اور وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے پائی۔

اس پر شیخ حسینہ اور ان کے حامیوں نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا، حتیٰ کہ بائیکاٹ اور عدم استحکام کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

انتخابی تاریخوں کا اعلان اور تیاری

عبوری حکومت کی قیادت نے عام انتخابات فروری 2026 میں منعقد کروانے کا اعلان کیا۔ چیف ایڈوائزر محمد یونس نے واضح کیاکہ انتخابات رمضان سے پہلے، یعنی فروری 2026 میں ہوں گے، تاکہ آئینی تقاضے اور اصلاحاتی عمل مکمل کیا جا سکے۔

الیکشن کمیشن نے بھی 12 فروری 2026 کو قومی انتخابات کے انعقاد کا باقاعدہ اعلان کیا، جس میں لاکھوں ووٹرز مختلف حلقوں سے پارلیمنٹ کے ارکان منتخب کریں گے۔

انتخابی تیاریوں میں چیلنجز

انتخابات تک پہنچنے کا عمل آسان نہیں رہا۔ سب سے بڑا چیلنج ووٹر فہرستوں کی نئے سرے سے تیاری، نئے اور پہلی بار ووٹرز کا اندراج، اور انتخابی ضوابط کی تیاری تھی، کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے فہرستوں اور نظام میں تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ سیاسی کشیدگی کے باعث سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ انتخابات پرامن اور محفوظ طور پر ہو سکیں۔

سیاسی منظرنامہ اور عوامی توقعات

یہ انتخابات بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک اہم جمہوری مرحلہ ہیں کیونکہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عوام ایک نئی سیاسی ترتیب کے تحت ووٹ ڈال رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں طویل عرصے تک انتخابی عمل ایک ایسے سیاسی تسلسل کے تحت چلتا رہا جہاں ریاستی ڈھانچہ، بیوروکریسی اور انتخابی نظم و نسق پر حکمران جماعت کا واضح اثر سمجھا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تیاریاں مکمل، 394 بین الاقوامی مبصرین، 197 غیرملکی صحافی مشاہدہ کریں گے

’نئی سیاسی ترتیب‘ سے مراد یہ ہے کہ اس بار وہی انتظامی و سیاسی تسلسل موجود نہیں، بلکہ اقتدار کا ڈھانچہ احتجاجی تبدیلی کے بعد ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے۔ جب کہ سابق حکمران پارٹی انتخابات میں شامل نہیں ہے۔

عوام خصوصاً نوجوان ووٹرز جمہوری بحالی، آئینی اصلاحات، انصاف اور معاشی ترقی کی امید رکھتے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور حکومت عبوری طور پر انتخابات

چیف ایڈوائزر محمد یونس کا قوم سے اظہار تشکر

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر کے نفاذ سے متعلق ریفرنڈم کے پُرامن اور منظم انعقاد پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے عوام، اداروں اور متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ووٹنگ کے اختتام کے بعد اپنے بیان میں پروفیسر محمد یونس نے عوام کی پُرجوش شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں نے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور انتخابی عمل سے وابستہ اداروں کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔

چیف ایڈوائزر نے الیکشن کمیشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مسلح افواج، سول انتظامیہ، مبصر مشنز، میڈیا نمائندگان اور انتخابی عملے کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن نے اس بڑے جمہوری عمل کو کامیاب بنایا۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر زور دیا کہ حتمی نتائج کے اعلان کے بعد بھی جمہوری روایات، برداشت اور باہمی احترام کو برقرار رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے فطری امر ہے، تاہم قومی مفاد میں اتحاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

پروفیسر یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ حکومت ایک زیادہ جوابدہ، جامع اور منصفانہ ریاست کے قیام کے لیے کام جاری رکھے گی۔

انہوں نے اس انتخابی عمل کو قومی جشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کے پُرامن اور پُروقار ترین انتخابات میں سے ایک تھا۔ ان کے مطابق اگر یہی مثبت رجحان برقرار رہا تو بنگلہ دیش کی جمہوریت نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔

طارق رحمان کا انتخابی نتائج فوری جاری کرنے کا مطالبہ

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان نے عام انتخابات کے نتائج فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی قسم کی دھاندلی یا انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو نتائج قبول نہیں کیے جائیں گے۔

ڈھاکا میں ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے بی این پی چیئرمین طارق رحمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو مؤثر اقدامات کرنے چاہییں تاکہ ووٹرز کو اپنے ڈالے گئے ووٹ کا نتیجہ بروقت معلوم ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ نتائج کے اعلان میں تاخیر سے بے یقینی اور ابہام پیدا ہو سکتا ہے۔

طارق رحمان نے دعویٰ کیا کہ پولنگ سے ایک روز قبل مختلف مقامات سے ناخوشگوار واقعات کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا کہ وہ عوام کو پرامن ماحول میں ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام آزادانہ اور بے خوف ہو کر ووٹ ڈال سکیں تو کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق منصفانہ اور شفاف انتخابات کی صورت میں نتائج تسلیم کیے جائیں گے، تاہم دھاندلی یا انتشار کی کسی بھی کوشش کی صورت میں نتائج قبول نہیں ہوں گے۔

بی این پی چیئرمین نے مزید کہا کہ پرامن اور غیر جانبدار انتخابات ہی ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔

بنگلہ دیش: عوام دھاندلی روکنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت کریں، جماعت اسلامی

بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور عوام پر زور دیا ہے کہ وہ نتائج کے اعلان تک اپنے اپنے پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت کریں۔

انہوں نے یہ اپیل جمعرات کی سہ پہر اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر جاری کردہ بیان میں کی۔

شفیق الرحمان نے دعویٰ کیا کہ مختلف مقامات پر پولنگ ایجنٹس پر حملے کیے گئے انہیں زخمی کیا گیا اور خواتین کو ہراساں کیا گیا۔ بعض علاقوں میں پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کی کوششیں بھی کی گئیں۔

انہوں نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ بدھ سے آپ نے تمام افواہوں کو شکست دی اور پولنگ اسٹیشنز پر قبضے کی سازشوں اور شیطانی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج صبح سے آپ نے انصاف کے قیام کے خواب کے ساتھ ایک تہوار کی طرح ووٹ ڈالا تاہم ہمیں تشویش ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور مختلف جگہوں پر پولنگ ایجنٹس پر حملے اور خواتین کو ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ کئی مقامات پر مراکز پر قبضے کی مذموم کوششیں بھی سامنے آئی ہیں۔

جماعت اسلامی کے امیر نے مزید کہا کہ ہم اہل وطن سے درخواست کرتے ہیں کہ جس طرح آپ نے اب تک ووٹ چوری اور مراکز پر قبضے کی سازشوں کو ناکام بنایا ہے اسی طرح نتائج کے اعلان تک اپنے قیمتی ووٹ کی حفاظت کریں تاکہ کوئی اسے چھین نہ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز کی نگرانی کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔

شفیق الرحمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ سے بھی فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے لکھا کہ میں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ نے اب تک منصفانہ انتخابی ماحول برقرار رکھنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے تاہم عوام محسوس کرتے ہیں کہ مزید فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر مراکز پر قبضہ اور بیلٹ باکس چھیننے کی سازش میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ اس سازش کو سختی سے کچل دیں اور عوام کے ووٹ کی امانت کی حفاظت کریں۔

بنگلہ دیش: 11 جماعتی اتحاد نے انتخابات کو مثالی قرار دیا، لینڈ سلائیڈ وکٹری کی امید

جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی انتخابی اتحاد نے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کے عمل کو ’مثالی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ سب سے زیادہ نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، حالانکہ کچھ الگ تھلگ تشدد اور غیر معمولی واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

اتحاد کی جانب سے آج شام ڈھاکہ کے مغبازار میں جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسن المحبوب زبیر نے کہا کہ انتخابی ماحول پرامن، خوشگوار اور عوام کی بھرپور شرکت کے ساتھ تھا، اور اس طرح کے انتخابات بنگلہ دیش کی انتخابی تاریخ میں ایک مثال قائم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بے صبری سے نتائج کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں اور اس عمل کی نگرانی کریں گے۔

انتخابی دن صبح 7:30 بجے شروع ہوا اور شام 4:30 بجے تک بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے جاری رہا۔ پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ایک ریفرنڈم بھی منعقد ہوا۔ انتخابی کمیشن کے مطابق ملک بھر کے 43,000 پولنگ مراکز میں سے 36,000 پر دوپہر 2 بجے تک تقریباً 48 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اگرچہ ووٹنگ عام طور پر پرامن رہی، کچھ الگ تھلگ واقعات میں 4 افراد ہلاک ہوئے۔

اتحاد میں جماعت اسلامی کے علاوہ نیشنل سٹیزن پارٹی، بنگلہ دیش خلافت مجلس، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، امر بنگلہ دیش پارٹی، بنگلہ دیش ڈویلپمنٹ پارٹی، بنگلہ دیش نظام اسلام پارٹی، جتیا گناتنٹرک پارٹی (جگپا)، بنگلہ دیش خلافت اَندولن اور بنگلہ دیش لیبر پارٹی شامل ہیں۔

بنگلہ دیش انتخابات: 11 لاکھ سے زائد پوسٹل بیلٹس موصول

بنگلہ دیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے سلسلے میں ریٹرننگ افسران کو اب تک 11 لاکھ 43 ہزار 845 پوسٹل بیلٹس موصول ہو چکے ہیں جو ووٹرز نے  ’پوسٹل ووٹ بی ڈی‘ ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کے بعد ارسال کیے۔

موصول ہونے والے بیلٹس میں سے 4 لاکھ 95 ہزار 551 بیرون ملک مقیم ووٹرز کے ہیں جبکہ 6 لاکھ 48 ہزار 294 بیلٹس اندرونِ ملک ووٹرز کی جانب سے ان لینڈ کنڈیشنل پوسٹل ووٹنگ نظام کے تحت ڈالے گئے۔

بیرون ملک ووٹرز کی تفصیلات

او سی وی-ایس ڈی آئی منصوبے کے تحت اوورسیز ووٹر رجسٹریشن کے ٹیم لیڈر سلیم احمد خان کے مطابق جمعرات دوپہر 2 بجے تک بیرونِ ملک ووٹرز کو 7 لاکھ 66 ہزار 862 بیلٹس ارسال کیے جا چکے تھے۔

ان میں سے 5 لاکھ 54 ہزار 258 ووٹرز کو بیلٹس موصول ہوئے، 5 لاکھ 43 ہزار 751 نے ووٹ کاسٹ کیا، جبکہ 5 لاکھ 37 ہزار 554 بیلٹس بیرونِ ملک ڈاک حکام کے حوالے کیے گئے۔ اب تک 4 لاکھ 98 ہزار 266 اوورسیز بیلٹس بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔

اندرون ملک ووٹرز کی شرکت

اندرون ملک ووٹرز کے لیے مجموعی طور پر 7 لاکھ 60 ہزار 898 بیلٹس ارسال کیے گئے۔ جمعرات دوپہر 2 بجے تک 6 لاکھ 81 ہزار 819 ووٹرز کو بیلٹس موصول ہوئے، 6 لاکھ 74 ہزار 376 نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا، جبکہ 6 لاکھ 69 ہزار 950 بیلٹس ڈاک خانوں یا لیٹر بکسز میں جمع کرائے گئے۔

اب تک ریٹرننگ افسران کو 6 لاکھ 48 ہزار 294 اندرونِ ملک پوسٹل بیلٹس موصول ہو چکے ہیں۔

مجموعی رجسٹریشن

حکام کے مطابق مجموعی طور پر 15 لاکھ 33 ہزار 684 ووٹرز، جو ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم ہیں، نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم میں پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کرائی۔

بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کو جیت کی امید، مہدی امین کا دعویٰ

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) نے 13ویں قومی اسمبلی کے انتخابات میں اپنی جیت کی امید ظاہر کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی زمین بوس کامیابی حاصل کرے گی، اگرچہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور ووٹرز کو خوفزدہ کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

بی این پی کے قومی انتخابی کمیٹی کے ترجمان مہدی امین نے گلشن میں پارٹی کے انتخابی دفاتر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ووٹنگ سے ایک دن قبل ایک سیاسی پارٹی نے سوشل میڈیا پر ووٹروں میں خوف پھیلانے کی کوشش کی۔

انہوں نے مبینہ طور پر کالے دھن کی تقسیم، انتخابی دھوکہ دہی اور پہلے سے مہر شدہ بیلٹ پیپرز کے استعمال کے واقعات رپورٹ ہونے کا ذکر کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ BNP کی فتح ناگزیر اور شاندار ہوگی اور کسی بھی کوشش سے نتائج کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت اور انتخابی اداروں کی شراکت داری

مہدی امین نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام انتخابی اہلکاروں کا شکر ادا کیا اور انتخابی تشدد کے دوران جاں بحق یا زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔

انہوں نے ووٹ گنتی کے عمل کو آزاد، شفاف اور منصفانہ طور پر مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پارٹی کارکنوں اور حمایتیوں سے کہا کہ وہ نتائج کی باقاعدہ تصدیق تک پولنگ اسٹیشنز ترک نہ کریں۔

بی این پی کے رہنما نے حریف پارٹی پر الزام لگایا کہ کچھ علاقوں میں جعلی مبصر تعینات کیے گئے تاکہ ووٹرز کو خوفزدہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو پہلے ہی آگاہ کیا گیا تھا اور کچھ اقدامات کیے گئے، لیکن زیادہ جامع اور سنجیدہ اقدامات اس قسم کے واقعات کو مؤثر طریقے سے روک سکتے تھے۔

مہدی امین نے مزید کہا کہ کچھ بیلٹ پہلے سے مہر شدہ، جعلی ووٹ اور مرحوم افراد کے نام پر ووٹ ڈالنے کی رپورٹس بھی موصول ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ’گندم کی بالی‘ کے نشان کی طرف جھکاؤ ہے، جو بی این پی کی فتح اور جمہوریت کے قیام کو یقینی بنائے گا۔ پریس کانفرنس میں پارٹی کے سینئر میڈیا سیل کے ارکان، بشمول کوآرڈینیٹر مودود حسین عالمگیر اور رکن سیریل کبیر خان بھی موجود تھے۔

بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان 2 نشستوں پر کامیاب

بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈھاکہ 17 اور بوگرا 6 کے حلقوں سے کامیاب ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: طارق رحمان کی جامع طرزِ حکمرانی کی اپیل

قبل ازیں جمعرات کی صبح طارق رحمان نے 13 ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں دارالحکومت کے گلشن ماڈل ہائی اسکول اینڈ کالج کے پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

وہ صبح تقریباً 9:30 بجے پولنگ اسٹیشن پہنچے اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس موقع پر ان کی اہلیہ ڈاکٹر زبیدہ رحمان اور بیٹی زائمہ رحمان بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نے اعتراف کرلیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟