مراد سعیدکاسینیٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان، پی ٹی آئی کو اجتماعی استعفوں کا مشورہ

اتوار 15 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا اور اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بھجوا دیا۔ پارٹی کے سرکاری اکاؤنٹ پر جاری بیان میں انہوں نے صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور دیگر قانون ساز اداروں سے فوری اجتماعی استعفوں کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی آنکھوں کے علاج کا معاملہ: ایمبولینس اڈیالہ جیل پہنچ گئی، میڈیکل رپورٹ بھی ارسال

میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے خط میں مراد سعید نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پارلیمان عوامی مینڈیٹ کی توہین پر قائم ہے اور آئین پر حلف اٹھانے کے باوجود اس کی اصل روح کو مسخ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’منتخب اور حقیقی وزیر اعظم‘ کے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والے ارکانِ اسمبلی کو ہی احتجاج پر قید کیا جا رہا ہے، اسی لیے وہ بطور احتجاج استعفیٰ دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مراد سعید جولائی 2025 میں خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم روپوشی کے باعث حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔

دوسری جانب حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو، جو اس وقت قید اور علیل ہیں، اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ان کی صحت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کر کے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔

اس سے قبل وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کا مزید معائنہ اور علاج ماہر امراض چشم کی زیر نگرانی خصوصی طبی مرکز میں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے لیے الشفا آئی ٹرسٹ اسپتال میں 10 کمرے مختص، ڈاکٹروں کے نام بھی سامنے آگئے

یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب عمران خان کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ جیل میں ان کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے، جس کے بعد پارٹی کارکنوں نے ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو ترجیح دیتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں بھی جمع کرائی جائے گی اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بانی چیئرمین کو خاندان اور ذاتی معالجین کی موجودگی کے بغیر اسپتال منتقل نہ کیا جائے۔ پارٹی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ طبی معائنہ کم از کم ایک اہلِ خانہ کی موجودگی میں کیا جائے اور کسی بھی خفیہ یا یکطرفہ اقدام کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا