سپریم کورٹ کی شہریوں سے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل

پیر 16 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے مملکت بھر کے مسلمانوں سے منگل کی شام رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل کی ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج کردی

سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عدالت نے ہدایت کی ہے کہ جو بھی شخص رمضان کا ہلال چاند دیکھے، خواہ ننگی آنکھ سے یا دوربین کی مدد سے، وہ قریبی عدالت میں اپنی شہادت درج کرائے یا رہنمائی کے لیے متعلقہ مرکز سے رابطہ کرے تاکہ گواہی بروقت ریکارڈ کی جا سکے۔

سپریم کورٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ جو افراد چاند دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اپنے اپنے علاقوں میں قائم کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس کا فائدہ تمام مسلمانوں کو پہنچ سکے۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے بچوں کو نوکریاں دینے کی پالیسی پر فیصلہ محفوظ کرلیا

منگل کا دن 29 شعبان کے مطابق ہے۔ اگر منگل کی شام چاند نظر آ گیا تو یکم رمضان بدھ سے ہوگا، بصورتِ دیگر جمعرات سے رمضان المبارک کا آغاز ہوگا اور شعبان کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘