انسداد دہشتگردی عدالت نے جماعت اسلامی کے 30 کارکنان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان
پیر کو جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جہاں پولیس نے جماعت اسلامی کے گرفتار 30 کارکنان کو عدالت میں پیش کیا۔
تفتیشی افسر کی جانب سے جماعت اسلامی کے کارکنان کو جسمانی ریمانڈ پر دینے کی استدعا کی گئی۔ وکیل سرکار نے مؤقف اپنایا کہ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے لہٰذا ان کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
جماعت اسلامی کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ایف آئی آر میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے دہشت پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں فائرنگ کا ذکر ہے لیکن کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور احتجاج عوامی حق ہے لہٰذا ایف آئی آر سے دہشتگردی کی دفعات ختم کی جائیں۔
مزید پڑھیے: کراچی میں ٹریفک حادثات، جماعت اسلامی کا شہر بھر میں احتجاجی دھرنوں کا اعلان
دوران سماعت جماعت اسلامی کے گرفتار ایک کارکن کی حالت ناساز ہونے پر انہیں این آئی سی سی ڈی منتقل کردیا گیا عدالت نے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر مقدمہ کا چالان طلب کرلیا۔














