موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا فیصلہ، کب سے آغاز ہوگا؟

منگل 17 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل کامیابی سے جاری ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 20 فروری صبح 10 بجے سے موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لگانے کا آغاز کیا جائے گا۔

انتظامیہ کے مطابق موٹرسائیکل مالکان اپنے اصل کاغذات اور شناختی کارڈ کے ہمراہ شہر بھر میں قائم 13 مختلف مقامات سے ایم ٹیگ حاصل کر سکیں گے۔

کن موٹرسائیکلوں پر اطلاق ہوگا؟

فیصلے کا اطلاق تمام اقسام کی موٹرسائیکلوں پر ہوگا، جن میں عام بائکس، بائکیا سروس سے منسلک موٹرسائیکلیں، ہیوی بائکس، دیگر تمام اقسام کی موٹرسائیکلیں شامل ہیں۔

اب تک کی پیش رفت

حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو ایم ٹیگ جاری کیے جا چکے ہیں۔ بائکیا اور آن لائن ٹیکسی سروس کی رجسٹریشن کا عمل علیحدہ طور پر جاری ہے۔

ایم ٹیگ لگانے کا مقصد کیا ہے؟

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد شہر میں سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور شہریوں کے سفر کو محفوظ بنانا ہے۔

شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ ایم ٹیگ مہم میں بھرپور تعاون کریں تاکہ وفاقی دارالحکومت میں محفوظ اور منظم ٹریفک نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں اضافے پر برہمی، مریم نواز کی پولیس کو 4 ہفتوں کی مہلت

رجنی کانت کی ’جیلر 2‘ کی دھوم، دنیا بھر میں کمائی 541 کروڑ روپے تک پہنچ گئی

’غیر ملکی سیاست دان فرانس کے حالات پر سیاست کر رہے ہیں‘ ٹرمپ، نیتن یاہو سمیت دیگر کو میکرون کا کرارا جواب

سعودی اور پاکستانی ڈیولپرز متحد، ریئل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

شادی کا جھانسہ، نازیبا ویڈیوز سے بلیک میلنگ، کراچی میں ملزم گرفتار

ویڈیو

سعودی اور پاکستانی ڈیولپرز متحد، ریئل اسٹیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی راہ ہموار

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟