وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن ایک سیاسی جماعت مسلسل احتجاج اور محاذ آرائی کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ اگر تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں، وزیراعظم ہاؤس آنا چاہتی ہے نہ کسی معاہدے پر دستخط کرنا چاہتی ہے تو کسی کو زبردستی بات چیت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی ماحول اس قدر تقسیم ہو چکا ہے کہ اسے بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کے پاس ایک بڑا موقع تھا کہ سیاسی تقسیم کم کی جاتی اور مذاکرات کے ذریعے ایسا طریقہ کار وضع کیا جاتا جس سے بات چیت کے راستے کھلتے۔
مزید پڑھیں: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک کس بات پر ہے؟
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس مقصد کے لیے کوششیں بھی کیں، لیکن بدقسمتی سے ملک میں ایک سیاسی جماعت ایسی ہے جس کا بظاہر مقصد سیاست کو مسلسل اشتعال اور محاذ آرائی کی طرف لے جانا ہے۔
مصدق ملک نے کہاکہ اگر 2013 سے اب تک کی سیاسی صورتحال دیکھی جائے تو احتجاج اور اشتعال انگیزی کا ایک مسلسل سلسلہ نظر آتا ہے، جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
انہوں نے ماضی کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کبھی پاکستان ٹیلی ویژن پر قبضہ کرکے فتح کے نشان بنائے گئے، کبھی پارلیمنٹ پر حملہ کرکے اس کی دیواریں توڑی گئیں اور قبضے کی کوشش کی گئی، کبھی قبریں کھودنے اور کبھی سپریم کورٹ کے سامنے شلواریں لٹکانے جیسے اقدامات کیے گئے۔
وفاقی وزیر کے مطابق یہ ایک مخصوص طرز کی سیاست ہے جو کسی صورت تبدیل ہوتی نظر نہیں آ رہی اور اس سے کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں اسی قسم کی سیاست اور سیاسی ماحول کو مزید تقسیم کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں پنجاب کی حکومت بھی اپنے ہاتھ سے گنوائی گئی۔
’صوبائی حکومت کا وفاقی دارالحکومت پر حملے کی بات کرنا افسوسناک ہے‘
مصدق ملک نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھ کر بھرپور کوشش کی کہ احتجاج کے معاملے پر کوئی راستہ نکالا جائے۔ ان کے بقول وہ یہ نہیں کہیں گے کہ سیاسی جماعتیں منت سماجت کرتی رہیں، لیکن سب نے سنجیدگی سے کوشش کی کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ احتجاج کرنا ہے تو اس کے لیے متعلقہ مقامات پر احتجاج کیا جا سکتا ہے، لیکن ہر 2 یا 4 ماہ بعد وفاقی دارالحکومت پر حملہ کرنے کی بات کرنا قابل قبول نہیں۔
وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی جتھا دارالحکومت پر حملہ کرے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسے روکے، لیکن اگر ملک کے ایک صوبے کی حکومت ہی یہ اعلان کرے کہ وہ اپنے ملک کے دارالحکومت پر حملہ کرے گی تو اس صورتحال کو کس طرح دیکھا جائے؟
انہوں نے کہاکہ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا کی جا رہی ہے جب سرحدوں پر خون بہہ رہا ہے اور فوجی جوانوں اور پولیس اہلکاروں کی شہادتیں ہو رہی ہیں۔
دہشتگردوں سے مذاکرات کرنے والے بتائیں کہ وہ کیا دینے کو تیار ہیں؟
مصدق ملک نے دہشتگردی کے معاملے پر تحریک انصاف کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ایک طرف یہ جماعت طالبان کے حق یا مخالفت میں واضح بیان دینے کے لیے تیار نہیں اور دوسری جانب دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کی بھی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب ٹیلی ویژن پروگراموں میں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ حکومت دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کرنا چاہتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اگر آپریشن نہیں ہونے دینا تو متبادل تجویز کیا ہے، تو جواب دیا جاتا ہے کہ دہشتگردوں سے مذاکرات کیے جائیں۔
مصدق ملک نے سوال اٹھایا کہ آخر دہشتگردوں سے کس بنیاد پر مذاکرات کیے جائیں اور ان مذاکرات میں کیا کچھ دینے کے لیے تیار ہیں؟
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان نے خواتین اور بچیوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، ان کا طریقہ کار اور رویہ واضح ہے۔ ان کے بقول وہ پاکستان میں بھی بچیوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے آرمی پبلک اسکول کے سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیاکہ کیا ہم دوبارہ اسی قسم کے واقعات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں سے مذاکرات کی حمایت کرنے والوں کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ کن بنیادوں پر بات چیت چاہتے ہیں۔
مصدق ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا وہ اپنے بچوں اور بچیوں کی تعلیم، ملک کی ثقافت، سیاسی نظام اور اپنے طرز زندگی پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟
انہوں نے کہاکہ یہ بتایا جائے کہ آخر مذاکرات میں کس چیز پر سمجھوتہ کرنا مقصود ہے، لیکن ان سوالات پر بھی خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق جب ان تمام معاملات پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آتا اور آخر میں صرف یہی کہا جاتا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی طرف آنا ہے اور احتجاج کرنا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔
’اپوزیشن لیڈر وزیراعظم سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تو زبردستی نہیں ہوسکتی‘
وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان ملاقات کے حوالے سے سوال پر مصدق ملک نے کہاکہ جمہوری تسلسل کے لیے بات چیت ضروری ہے، لیکن اگر اپوزیشن لیڈر وزیراعظم ہاؤس آنے کے لیے تیار نہیں تو مذاکرات کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ حکومت کے لیے تمام سیاسی شخصیات قابل احترام ہیں، لیکن اگر کوئی ملاقات کے لیے نہیں آئے گا تو بات چیت بھی نہیں ہوگی، کیونکہ کسی کو زبردستی مذاکرات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیراعظم کئی مرتبہ قومی اسمبلی کے ایوان میں اور اپنی تقاریر میں مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے آخری وقت تک بات چیت جاری رکھنے کی کوشش کی، حکومتی وفد رات گئے تک بیٹھا رہا اور مذاکرات کے نتیجے میں ایک مسودے پر اتفاق بھی ہوگیا تھا۔
مصدق ملک نے کہاکہ اگر اس کے باوجود دوسری جانب سے مذاکرات نہ کرنے پر اصرار کیا جائے تو کسی کی گردن پر گھٹنا رکھ کر یا زبردستی انگوٹھا لگوا کر بات نہیں کرائی جا سکتی۔
انہوں نے کہاکہ حکومت آج بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اگر ایک سیاسی جماعت کہتی ہے کہ وہ نہ یہاں آنے کے لیے تیار ہے، نہ کہیں اور جانے کے لیے، نہ مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی طے پانے والے مذاکراتی مسودے پر دستخط کرنے کے لیے آمادہ ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کس چیز کے لیے تیار ہے؟
’مولانا فضل الرحمان ناراض ہیں تو انہیں منانے کی کوشش کرنی چاہیے‘
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سخت سیاسی مؤقف اور اس کے خیبرپختونخوا کے معاملات سے ممکنہ تعلق کے بارے میں سوال پر مصدق ملک نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کی جماعت کا محبت اور احترام کا پرانا رشتہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنا ان کے لیے مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ وہ ایک زیرک، تجربہ کار اور سینیئر سیاستدان ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمان نے مشکل اور آسان دونوں طرح کے سیاسی حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کسی سیاسی معاملے پر ناراض ہیں تو حکومت کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ انہیں منایا جائے، ان سے بات چیت کی جائے اور انہیں ساتھ لے کر چلا جائے۔
مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل سے کوٹ لکھپت تک کا سفر، پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے کیا نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے؟
مصدق ملک نے امید ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ معاملات بات چیت کے ذریعے بہتر بنائے جائیں گے۔
’پنجاب میں اسموگ سے نمٹنے کے اقدامات‘
اسموگ کے متوقع موسم اور اس کے تدارک کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت اسموگ سے نمٹنے کے لیے ہرممکن اقدامات کررہی ہے، اور اسموگ گنز کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔









