ضلع صوابی کے تحصیل لاہور کے علاقے تورڈھیر میں مبینہ طور پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے نصب کی جانے والی اسٹریٹ لائٹس افتتاح کے بعد ایک بھی نہ چل سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: صوابی: ایم پی اے کے اپنے گاؤں میں بنیادی سہولیات ناپید، پورے حلقے کی ترقی کے دعوے کیسے پورے ہوں گے؟
مقامی سطح پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ لائٹس تنصیب کے صرف ایک دن بعد ہی خراب ہوگئی تھیں جس کے بعد سے آج تک بحال نہیں کی جا سکیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں فنڈز سے نصب کی جانے والی ان اسٹریٹ لائٹس کو علاقے کو روشن بنانے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے تورڈھیر کو روشنیوں کا شہر بنانے کے دعوے کیے گئے تاہم زمینی صورتحال ان دعوؤں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔
اتنی خطیر رقم صرف کرنے کے باوجود یہ لائٹس 5 سال سے بند پڑی ہیں جس کے باعث منصوبے کی افادیت اور اس پر خرچ ہونے والی رقم کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: صوابی کے سرکاری اسکول کی تکمیل میں تاخیر، پی ٹی آئی کی ترجیحات پر سوالات
اہم سوال یہ ہے کہ اگر اس منصوبے پر ایک کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تو تنصیب کے فوراً بعد لائٹس خراب ہونے کی صورت میں ان کی مرمت اور بحالی کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ منصوبے کے ذمہ دار ٹھیکیدار اور متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھیں: موجودہ پی ٹی آئی قیادت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں جیسی ہے جو صوابی سے آگے نہیں جاسکتی، محمود خان
علاقہ مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی لاگت، معیار تعمیر، ناقص تنصیب کی وجوہات اور 5 سال سے بند اسٹریٹ لائٹس کے معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور لائٹس کو فوری طور پر فعال بنایا جائے تاکہ عوامی فنڈز سے مکمل ہونے والے منصوبے سے شہریوں کو حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔









