نائب وزیراعظم کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے  نیو یارک کا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرلیا، اسحاق ڈار نے غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں شرکت سمیت مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک کا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرلیا ہے، اس دورے کے دوران انہوں نے فلسطین پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں حصہ لیا، جس کی صدارت برطانیہ کی وزیر خارجہ نے کی، اور بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے قبل دیگر امور پر بھی بریفنگ دی۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ ٹرمپ کا اہم اعلان

اسحاق ڈار نے امریکا میں متعدد دوطرفہ ملاقاتیں اور سرکاری مصروفیات انجام دیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے اسرائیل کے حالیہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت کی، جن کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانا تھا، اور فوری طور پر انہیں روکنے اور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے، انہوں نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا، جو معتبر اور بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سیاسی عمل کے ذریعے حاصل ہو۔

 انہوں نے زور دیا کہ یہ عمل ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل ریاست فلسطین کے قیام کی طرف لے جائے، جو جون 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو اور اس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم سے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی

نائب وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ریزولوشن 2803 کے فریم ورک میں بورڈ آف پیس ان اہداف کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات میں معاون ثابت ہوگا۔

دورے کے دوران انہوں نے مصر، اردن، انڈونیشیا اور برطانیہ کے ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔ علاوہ ازیں فلسطین کے وزیر و مستقل نمائندے اور شام کے مستقل نمائندے سے بھی ملاقات ہوئی۔

ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی و بین الاقوامی صورتحال اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی۔

دوطرفہ اجلاسوں میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، دفاع اور عوامی سطح کے تبادلوں سمیت تمام شعبوں میں تعاون کے مواقع پر گفتگو کی اور اعلیٰ سطحی رابطوں اور مؤثر ادارہ جاتی میکانزم کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے

یہ دورہ پاکستان کی اقوامِ متحدہ میں امن، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے لیے فعال سفارتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ کلیدی دوطرفہ ترجیحات کو آگے بڑھانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

اردن کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ ایمن الصفدی سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور حالیہ پاک اردن مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے اجلاس سے پیدا ہونے والی مثبت پیشرفت کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر باہمی تعاون کو اہم شعبوں میں مزید گہرا اور وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

فریقین نے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، خصوصاً غزہ اور مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ دونوں ممالک نے فلسطینی عوام کے جائز مؤقف اور حقِ خودارادیت کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پمز آتشزدگی: وزیراعظم کی بچے کو بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری

نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کی شاہ غلام قادر سے اہم ملاقات، ناراضی ختم ہونے کا امکان

پمز سانحہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران معطل، وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں