انٹارکٹیکا کے مشرقی حصے میں ٹیلر گلیشیئر سے پھوٹتی ہوئی ایک روشن سرخ رنگت والی آبشار، جسے بلڈ فالز کہا جاتا ہے، سائنسدانوں کے لیے صدیوں سے ایک پراسرار قدرتی مظہر رہی ہے۔ یہ آبشار ان زمینوں میں واقع ہے جو زمین کی سب سے سرد اور خشک جگہوں میں شمار ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برف کے نیچے چھپی دنیا آشکار، انٹارکٹیکا کی زمین کے خدوخال سامنے آگئے
قومی جغرافیہ کی محقق ایرِن سی پِٹ اور ان کی ٹیم نے تحقیق کے دوران دریافت کیا کہ اس آبشار کا خون نما سرخ رنگ حیاتیاتی مواد کی وجہ سے نہیں بلکہ برف کے نیچے چھپے ہوئے انتہائی نمکین، لوہے سے بھرے پانی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جب یہ لوہے سے بھرپور پانی سطح پر آتا ہے اور آکسیجن کے ساتھ رابطہ کرتا ہے تو آئرن آکسائڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس سے پانی سرخ زنگ زدہ رنگ اختیار کر لیتا ہے اور بلڈ فالز کو اس کی منفرد خون جیسی ظاہری شکل ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا میں نوکری کے لیے غیر معمولی معاوضے کی پیشکش، نوجوان کو فیصلہ کرنے میں مشکل درپیش
ماپنے کے عمل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جیسے جیسے پانی آبشار کے قریب آتا ہے، اس میں لوہے کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو پانی کے درجہ حرارت اور نمک کی مقدار کے تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔
ٹیلر گلیشئر کو دنیا کا سب سے سرد گلیشئر مانا جاتا ہے، جہاں پانی مستقل بہاؤ میں رہتا ہے۔ یہاں برف، نمک، لوہا اور حرارت کا پیچیدہ امتزاج چھپا ہوا ہے، جو ایک ایسا متحرک نظام پیدا کرتا ہے جو بظاہر مردہ برفانی صحراء میں زندگی کی جھلک دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا کا سونا اُگلتا آتش فشاں، حقیقت یا فسانہ؟
یہ پراسرار اور دلکش منظر ظاہر کرتا ہے کہ قدرت انتہائی سخت ماحول میں بھی کس قدر پیچیدہ اور متحرک ہو سکتی ہے۔














