سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ گرین لینڈ کی برفانی تہہ کے اندر بڑے اوپر اٹھنے والے ستون دراصل حرارتی کنوکشن کی وجہ سے بنتے ہیں، جو زمین کی اندرونی پرت یعنی منتل میں پگھلی ہوئی چٹان کی حرکت سے ملتی جلتی ہے۔
یہ حرارت برف کے نیچے کے حصے کو اتنا نرم کر دیتی ہے کہ یہ ستون کی شکل میں اوپر اٹھ سکتے ہیں، حالانکہ برف ابھی بھی ٹھوس رہتی ہے۔
مزید پڑھیں: برف کے نیچے چھپی دنیا آشکار، انٹارکٹیکا کی زمین کے خدوخال سامنے آگئے
ناروے کی یونیورسٹی آف برجن کے مطابق یہ دریافت حیران کن ہے کیونکہ عام طور پر ہم برف کو ایک سخت چیز سمجھتے ہیں، لیکن گرین لینڈ کی برف میں یہ عمل ممکن ہے۔ یہ ایک نایاب قدرتی مظہر ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ حرکت زمین کی قدرتی جیو تھرمل حرارت سے پیدا ہوتی ہے، جو ریڈیواکٹو ڈیکے اور زمین کی تشکیل کے باقی ماندہ حرارت سے آتی ہے۔
2014 میں سائنسدانوں نے یہ پراسرار ستون شمالی گرین لینڈ میں دریافت کیے تھے اور تب سے یہ معمہ حل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
یونیورسٹی آف برجن کے ماہر موسمیات اندریاس بورن کا کہنا ہے کہ ہم عام طور پر برف کو مکمل طور پر ٹھوس سمجھتے ہیں، اس لیے یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ گرین لینڈ کی برفانی تہہ میں حرارتی حرکت، بالکل اُبلتے پانی میں پاستا کی طرح، ممکن ہے۔
مزید پڑھیں: انٹارکٹیکا میں خون کے رنگ کی آبشار، سائنسدانوں نے وجہ بتادی
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انہیں برف کے اندر چھپے عمل کو سمجھنے اور مستقبل میں گرین لینڈ کی برف کے پگھلنے کے اثرات، جیسے سمندر کی سطح میں اضافہ، کا اندازہ لگانے میں مدد دے گی۔














