کچھ عرصہ پہلے ایک دوست سے ملاقات ہوئی، پرانے صحافی ہیں، عمر بھر سیاست کی رپورٹنگ کی ہے، حکومتیں بنتے اور گرتے دیکھی ہیں۔ بات ہو رہی تھی ملک کے حالات کی، سیاسی تنگی کی، احتجاج پر پابندیوں کی، اِس جماعت کی تکلیف کی، اُس تنظیم کی شکایت کی۔ انہوں نے چائے کا گھونٹ لیا اور بولے، یار، ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے۔ اب اس فیصلے کو سمجھو اور اسی کے ساتھ گزارا کرو۔
میں نے سوچا، یہ بات بظاہر سادہ لگتی ہے مگر اس کے اندر بہت کچھ ہے۔ آج اسی بات کو ذرا کھول کر دیکھتے ہیں۔
پاکستانی ریاست اس وقت جس پوزیشن میں ہے، اسے سمجھنے کے لیے پہلے اس پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے جس نے اسے اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے۔ ہم بطور قوم اور ریاست کئی برسوں سے ایک ایسی کیفیت میں رہے ہیں جہاں ہر طرف سے دباؤ تھا، اندر سے بھی، باہر سے بھی۔ دہشتگردی نے ہزاروں لوگ نگل لیے، بلوچستان میں پراکسی وار برسوں سے جاری رہی، خیبر پختونخوا کے بازاروں میں خودکش حملے ہوتے رہے، سکولوں پر حملے ہوئے۔ پشاور کے آرمی پبلک سکول کا سانحہ کون بھول سکتا ہے جہاں ڈیڑھ سو سے زیادہ معصوم بچے شہید کر دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں
باہر سے بھارت نے کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔ را کے ہینڈلرز نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں اپنے نیٹ ورک پال رکھے تھے، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے اس سچ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ پھر پچھلے سال آپریشن سندور آیا جب بھارتی فوج نے پاکستانی سرزمین پر میزائل داغے، مگر جو جواب انہیں ملا اس نے بھارتی فوجی مشینری کی ساری گھمنڈ خاک میں ملا دی۔ ایس چار سو جیسا مہنگا ترین روسی اینٹی میزائل نظام تباہ ہوا، رافیل گرے، ڈرونز مار گرائے گئے۔ وہ ڈاکٹرائن جو بھارتی عسکری ماہرین نے برسوں میں تیار کی تھی، چند روز میں فرسودہ ثابت ہوئی۔
یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہوا۔ یہ ریاست کے ایک واضح فیصلے کا نتیجہ تھا، ایک یکسوئی کا ثمر تھا۔
اس ساری صورتحال کو دیکھیں تو ایک بات بالکل صاف نظر آتی ہے، پاکستانی ریاست نے اب ہارڈ سٹیٹ کا موقف اپنا لیا ہے اور اس سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں۔ اس کے چند واضح پہلو ہیں جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔
پہلی بات، دہشتگردی اور شدت پسندی پر اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ مذہبی بنیادوں پر نہ لسانی بنیادوں پر اور نہ سیاسی بنیادوں پر۔ ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن جاری ہے، بلوچستان میں بی ایل اے اور دیگر مسلح گروپوں کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ اچھے اور برے طالبان کی جو تھیوری کئی برس پہلے رائج تھی، عملاً دفن ہو چکی ہے۔ جو بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا اس کے خلاف زیرو ٹالرنس ہوگی۔
دوسری بات، احتجاجی سیاست کی بھی اب اتنی کھلی چھوٹ نہیں رہے گی جیسی پہلے تھی۔ ٹی ایل پی کے ساتھ جو ہوا، وہ ایک پیغام تھا اور یہ پیغام سب کے لیے یکساں ہے۔ جو جماعت یا تنظیم بھی ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی راہ اختیار کرے گی، اسے اسی انجام سے گزرنا ہوگا۔ یہ کوئی انتقام نہیں، یہ ریاست کی بقا کا مسئلہ ہے۔
تیسری بات، معیشت پر فوکس ہوگا اور سسٹم چلتا رہے گا۔ جو بھی اس سسٹم کو چلنے سے روکے گا، اس کے خلاف سخت ترین کارروائی ہوگی۔ سڑکیں بند کرنا، ریل کی پٹریاں اکھاڑنا، ٹول پلازے جلانا، یہ سب اب بہت مہنگا ثابت ہوگا۔ معیشت کو پٹری پر ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں، اس امید کے ساتھ کہ نتائج اور ثمرات جلد ملیں گے۔ اللہ کرےایسا ہی ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ موقف درست ہے؟ کیا ریاست کا یہ رویہ جائز ہے؟
مزید پڑھیے: کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ یہ سوالات اٹھاتے ہیں ان کے اپنے دلائل ہیں، ان کی باتوں میں وزن بھی ہے۔ جمہوریت احتجاج کا حق دیتی ہے، آزادی اظہار بنیادی حق ہے، سیاسی سرگرمیاں جمہوری نظام کا حصہ ہیں۔ یہ سب باتیں سچ ہیں۔ دوسری طرف مگر وہ تاریخی مثالیں بھی ہیں جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ جنوبی کوریا انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں آمریت تھی، آہنی ہاتھ تھے، مگر اسی عرصے میں انہوں نے معاشی انقلاب لایا اور آج وہ دنیا کی بارہویں بڑی معیشت ہے۔ چین نے جس طرح ایک مرکزی فیصلے کے ساتھ چل کر اپنی معیشت کھڑی کی، اس سے دنیا حیران ہے۔ سنگاپور میں لی کوان یو نے جو سختی اپنائی، آج وہ دنیا کے سب سے خوشحال ملکوں میں سے ایک ہے۔
یہ مثالیں کوئی پسند کرے یا نہ کرے، تاریخ انہیں جھٹلا نہیں سکتی۔ خطے کے حالات دیکھیں تو بھی یہی تصویر بنتی ہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت نرمی کی گنجائش نہیں ہے۔ ایران پر امریکی دباؤ ہے، افغانستان میں طالبان کی حکومت اپنے مسائل میں گھری ہے، بھارت نے اپریل مئی میں جو جنگی ہوس دکھائی اس نے ثابت کر دیا کہ پڑوس محفوظ نہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان اندر سے کمزور ہو، سیاسی بدامنی ہو، دھرنے ہوں، سڑکیں بند ہوں، معیشت لڑکھڑاتی رہے تو دشمن کو موقع ملتا ہے۔
بھارتی منصوبہ ساز دہائیوں سے ڈاکٹرائن آف بلیڈنگ پاکستان ودھ تھاوزنڈ کٹس پر کام کر رہے ہیں، مطلب ہزار چھوٹے زخموں سے پاکستان کو خون آلود کرتے رہو۔ جب اندر سے انتشار ہو تب یہ ہزار زخم آسانی سے لگائے جا سکتے ہیں۔
ایک اور زاویے سے سوچیں۔ جو ملک یا تنظیم یا فرد طاقت کا غلط اندازہ لگا بیٹھے اور جذباتی نعروں کے پیچھے چل نکلے، وہ نہ صرف خود مارا جاتا ہے بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبتا ہے۔ یہ کلیہ صرف ریاستوں پر نہیں، سیاسی جماعتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے، افراد پر بھی۔ جو بچ کر رہتا ہے، حالات کو سمجھ کر قدم رکھتا ہے، وہی آخرکار کامیاب ہوتا ہے۔ یہی سیاسی بقا کا اصل فن ہے۔
اس لیے ان سب سے گزارش ہے جو موجودہ صورتحال پر پریشان ہیں، جو ریاست کے اس رویے سے متفق نہیں، جو سمجھتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔ ان کے خدشات کو سمجھتا ہوں اور مکمل طور پر رد نہیں کرتا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں۔ جس موڑ پر پاکستان کھڑا ہے، وہاں ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا۔
جو ریاست کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، انہیں کہتا ہوں کہ اس ہارڈ سٹیٹ کا رخ صرف سخت گیری کی طرف نہ ہو، عوام کی فلاح بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ بلوچستان کے عوام کی محرومیاں، خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں کی مشکلات، عام پاکستانی کی مہنگائی سے جنگ، یہ سب ٹھیک کرنا بھی اسی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ طاقت کا استعمال ضروری ہے مگر عوام کا دل جیتنا اس سے بھی ضروری ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ صرف طاقت سے ریاستیں قائم نہیں رہتیں، انہیں عوام کی محبت اور اعتماد بھی درکار ہوتا ہے۔ پاکستانی ریاست اگر واقعی ایک نئے دور میں قدم رکھ رہی ہے تو اس کے ساتھ عوام کی زندگی بھی بہتر ہونی چاہیے۔ دہشتگرد ختم ہوں، سڑکیں محفوظ ہوں، روزگار ملے، مہنگائی کم ہو، بچے سکول جائیں، ہسپتالوں میں علاج ملے، یہ ہارڈ سٹیٹ کا اصل امتحان ہے۔
مزید پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں
اس کے ساتھ ساتھ مگر ہر ایک کو سمجھنا ہوگا کہ حالات، چیزیں اور بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اس نئےپاکستان کےزمینی حقائق کو سمجھیں،اپنے لیے مسائل پیدا کریں نہ ریاست کے لیے۔ گزارا کریں۔ یہ مشورہ سمجھ لیں،نصیحت سمجھیں یا تجزیہ ، رائے یا پھر ایک نقطہ نظر۔ اسےجو دل چاہے کہہ دیں مگر بہرحال اس پر غور ضرور کریں۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے، ہماری قیادت کو حکمت عطا کرے، سیاسی جماعتوں کو حالات کی نزاکت کے حساب سے حکمت عملی بنانے کی سمجھ بوجھ ملے اور ہم سب کو یہ توفیق دے کہ ملک وقوم کے لیے مل کر کام کریں، آمین۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













