کوہاٹ کے کے ڈی اے ڈبل روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے لیڈی ڈاکٹر مہوش جاں بحق ہوگئیں، جس نے پورے شہر میں صدمے کی لہر دوڑا دی۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈاکٹر مہوش اپنی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد گھر واپس جا رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے، تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
لیڈی ڈاکٹر مہوش کے قتل پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کوہاٹ نے احتجاج کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر قاتلوں کو نہیں پکڑا گیا تو پورے پختونخوا کے ہسپتالوں کو بند کر دیا جائے گا۔
ترجمان : ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پختونخوا pic.twitter.com/4orcwd05JF— Dr.Hafeez Orakzai (@Cardio_Hafeez) February 22, 2026
ڈاکٹر مہوش کے قتل کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اسپتال بند کرنے اور مکمل احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر عبید، صدر ینگ ڈاکٹرز، نے کہا کہ ملزمان کی فوری گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا۔
احتجاج کے تحت کوہاٹ کے تمام سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز، آپریشن تھیٹرز اور دیگر طبی سروسز معطل کردی گئی ہیں، جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کوہاٹ: کے ڈی اے ڈبل روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ۔ پولیس
کوہاٹ: فائرنگ سے مہوش نامی لیڈی ڈاکٹر جاں بحق۔ پولیس
کوہاٹ: واقعے کے بعد پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کردی۔@farzanaalispark @fawadchaudhry pic.twitter.com/4xgnkuJpT9
— Saeed Ur Rehman (@Saeedwazir33) February 22, 2026
ینگ ڈاکٹرز نے ضلعی انتظامیہ اور ڈی پی او کو 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا ہے تاکہ قاتلوں کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔ ڈاکٹرز برادری نے کہا کہ اس واقعے نے سیکیورٹی پر سنگین سوالیہ نشان لگا دیا ہے، کیونکہ ایک خاتون ڈاکٹر بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے محفوظ نہیں رہ سکی۔
کل صبح 8 بجے ڈی ایچ کیو اسپتال کے سامنے بھرپور احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، اور ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کو شرکت کے لیے کال دی گئی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس واقعے نے طبی نظام کی کمزوری اور سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔













