ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کو دہشتگردی اور عسکریت پسندی جیسے مشترکہ خطرات کا سامنا ہے، دونوں ممالک کومل کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام پاک ایران تعلقات پر عوامی مباحثہ منعقد کیا گیا، جس میں پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور دونوں ممالک کے درمیان طویل المدت شراکت داری پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سفیر کا یومِ آزادی پر پُرجوش پیغام اور مبارکباد
اپنے خطاب میں ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی بنیادوں پر قائم ہیں اور یہ رشتہ قیام پاکستان سے بھی پہلے موجود تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوستوں کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، لیکن ہمسائے تبدیل نہیں کیے جا سکتے، اسی لیے پاکستان اور ایران ہمیشہ ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں جاری تبدیلیوں کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات کسی بھی مشکل صورتحال سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ 2015 میں ہونے والے عالمی مذاکرات کے دوران کئی علاقائی ممالک اس عمل کے مخالف تھے، تاہم اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور متعدد ممالک خطے میں استحکام اور مذاکرات کے حامی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سفیر کو استثنیٰ حاصل ہے، ایف بی آئی کی فہرست پر پاکستان کا ردعمل
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 برس کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان 25 اعلیٰ سطحی وفود کا تبادلہ ہوا، جس سے باہمی اعتماد اور تعاون میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو دہشتگردی اور علیحدگی پسند گروہوں جیسے مشترکہ خطرات کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی سرحدی گزرگاہوں اور کراسنگ پوائنٹس کے قیام سے تجارت اور روابط میں مزید بہتری آئی ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کی مخالفت کر کے دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کا عملی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا اہم اظہار قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک ایران سرحد پر تجارتی آمدورفت بحال، مقامی معیشت میں نئی جان پڑنے کی توقع
انہوں نے کہا کہ پاکستان، ایران اور ترکیہ سمیت خطے کے دیگر ممالک کے درمیان تعاون سے ایک بڑی اقتصادی منڈی وجود میں آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور ایران کی مشترکہ منڈی تقریباً 350 ملین افراد پر مشتمل ہے، جبکہ ترکیہ کی شمولیت سے یہ تعداد بڑھ کر 400 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون تنظیم جیسے علاقائی فورمز اس تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر تشویش ہے اور ایران اس تنازع کے پرامن حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے کے تمام مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے، کیونکہ جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک ایران 3 اہم معاہدے طے، تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا، اسحاق ڈار
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے وقت میں پاکستان اور ایران کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک علاقائی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے مشترکہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔













