وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، ٹیکس چھاپوں پر حکام کو وسیع اختیارات حاصل

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ٹیکس حکام کسی بھی وقت اور بغیر پیشگی نوٹس کسی بھی مقام پر چھاپہ مار سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:  وفاقی آئینی عدالت کی ویب سائٹ کا اجرا

جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا کہ چھاپہ مارنے کے لیے ٹیکس دہندہ کے خلاف پہلے سے کسی مقدمے کا چلنا ضروری نہیں۔ عدالت نے یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ بغیر کیس کے چھاپہ غیر قانونی تصور کیا جائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے حکام کو وسیع اختیارات تفویض کیے ہیں اور عدالت قانون میں اپنی طرف سے کوئی ایسی شرط شامل نہیں کر سکتی جو پارلیمنٹ نے واضح طور پر درج نہ کی ہو۔

تاہم عدالت نے یہ ہدایت بھی جاری کی کہ متعلقہ کمشنر کو تحریری طور پر واضح کرنا ہوگا کہ کس قانون کی مبینہ خلاف ورزی کی بنیاد پر چھاپہ مارا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: میری نظر 6/6 نہیں، دور سے فائل دیکھنا ممکن نہیں، جسٹس عامر فاروق کی وکلا کو تنبیہ

عدالت نے مزید قرار دیا کہ ٹیکس حکام کمپیوٹرز، دستاویزات اور اکاؤنٹس کو قبضے میں لینے کے مکمل طور پر مجاز ہیں، بشرطیکہ کارروائی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp