فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

پیر 27 جولائی 2026
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دی نیوز کے تحقیقاتی صحافی فخر درانی کو جانتے ہوئے کئی سال ہو گئے۔ فخر اس تحقیقاتی سیل کے سب سے نوعمر صحافی ہیں۔ وہ ’دی نیوز‘ کی شان ہیں۔ اپنے بھائی فخر کم گو بھی بہت ہیں اور محنتی بھی بہت۔ چپ چاپ اپنی خبر میں کئی مہینے مگن رہتے ہیں۔ خوف زدہ نہیں ہوتے۔ کسی ایک پارٹی کے کارکن کی طرح کام نہیں کرتے۔ سب سے لڑتے ہیں۔ سب سے جھگڑتے ہیں۔ طاقتور لوگ کسی جماعت کے ہوں یا ادارے کے، فخر درانی سے خائف رہتے ہیں۔ یہی ان کی سچائی کی ایک دلیل ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک فخر درانی کو محفل میں بات کرتے جھجکتے دیکھا لیکن آج یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ رپورٹ کارڈ ہو یا ٹاک شاک، فخر درانی کے تجزیے کے بغیر نامکمل ہوتے ہیں۔

فخر درانی کی اس وقت تحسین بے معنی نہیں۔ ان کی ایک خبر نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس وقت سارے سوشل میڈیا پر اسی خبر کا ذکر ہو رہا ہے۔ خبر کیا ہے، ایک طوفان ہے۔ ایک قیامت ہے۔ سب کچھ ہمارے سامنے تھا، ہم یقین نہیں کرتے تھے۔ یہ سب کچھ ہو رہا تھا مگر ہم نہیں مانتے تھے۔ ہم شکوک میں رہنے والے لوگ، اوور تھنکنگ کرنے والے، بالکل سامنے کی سچائی بھانپ نہ سکے اور فخر نے تمام تر صحافتی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اس کو خبر کی شکل دی تو بہت سوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ بہت سے ششدر رہ گئے۔ بہت سی زبانیں گنگ ہو گئیں۔

ہم نے بہت سنا تھا کہ دشمن ملک کے ایجنٹ اپنے ہاں کے دانشوروں، صحافیوں کو ورغلانے میں مصروف ہوں۔ یہ قصہ بہت پرانا ہے۔ ہم اس کو ہمیشہ اداروں کی جانب سے بے سبب الزام کہتے رہے مگر نہیں۔ یہ الزام نہیں، ایک حقیقت ہے۔ ایسے ادارے پی آر کے نام سے موجود ہیں جو دانشوروں اور صحافیوں سے بہت سے کام ارزاں نرخوں پر کروانے میں مشتاق ہیں اور اس پر باقاعدہ ایک مجرمانہ ریکٹ کی طرح کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگوں کے ذہن خریدتے ہیں۔ اس محبِ وطن معاشرے میں تفرقے کے بیج بوتے ہیں۔ نفرت کی پنیری لگاتے ہیں اور خود کو کبھی انسانی حقوق کے پیامبر کہتے ہیں اور کبھی دانش ور ہونے کی تہمت لگواتے ہیں، اور کبھی صحافت کی ڈھال سنبھالتے ہیں۔ ان کی وطنِ عزیز کے خلاف ہرزہ سرائی میں پسِ پشت عوامل کون سے ہیں؟ ان عوامل کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے؟ وہ کون سی ’بھاشا‘ بولتے ہیں؟ یہ اس خبر کا محور ہے۔

فخر درانی نے اپنی خبر میں سارے صحافتی محاسن پورے کر دیے۔ پہلے ہی رابطے کے بعد جیو نیوز کے انویسٹی گیشن سیل کے ہیڈ، نامور صحافی انصار عباسی سے بات کی۔ اپنے ادارے کو ہر مرحلے پر آگاہ کیا اور حکومت کو بھی باخبر رکھا۔ ہر چیٹ کا اسکرین شاٹ لیا۔ ہر گفتگو ریکارڈ کی۔ ہر رسید کو سنبھال کر رکھا۔ یہ سب اس خبر کی صداقت کے لیے اہم تھا۔

آپ میں سے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں اب بھی شکوک ہوں گے کہ شاید جو کہا جا رہا ہے، وہ سچ نہیں۔ یہ بھی کوئی پروپیگنڈے کی شکل ہے۔ خبر کے ثبوت تو فخر نے پیش کر دیے لیکن اس کے سماجی اور سیاسی مناظر بھی ہم دیکھ چکے ہیں۔

واقعہ صرف یہ ہے کہ یہ باتیں ہمارے اتنے سامنے کی ہیں کہ ہمیں یقین نہیں آ رہا۔ بہت سے واقعات ایسے ہوئے جو سمجھ سے باہر تھے مگر اب ان کو منطق مل چکی ہے۔ بہت سے بیانیے ایسے تھے جو بیان نہیں کیے جا سکتے تھے مگر اب ان کے ثبوت دریافت ہو چکے ہیں۔ بہت سی گفتگو ایسی تھی جو زبانی ہو رہی تھی، اب اس کو حقائق مل چکے ہیں۔

فخر درانی کی اس خبر نے بہت سی پرتیں وا کر دی ہیں، بہت سی گرہیں کھول دی ہیں۔ سامنے کی باتیں اب سامنے آ گئی ہیں۔ اب ذرا ماضی قریب کے کچھ واقعات کو سوچیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ سازشیں کیسے رچائی جاتی ہیں اور ’را‘ کے ایجنٹ کس طرح اذہان کی خرید و فروخت میں استعمال ہوتے ہیں۔

معرکۂ حق، بنیان مرصوص آپ کو یاد ہو گا۔ پروردگار نے پاکستان کو بڑی فتح سے ہمکنار کیا۔ ہم نے ایک بہت بڑی عسکری قوت کا غرور تار تار کر دیا۔ ہم نے اس کے جہاز گرائے اور ان کو مار بھگایا۔ یہ معرکہ کسی بھی وطن میں ہوا ہوتا، اس کے لوگوں کے دل فخر سے بھرے ہوتے۔ اپنی فوج کی دلیری کے گیت گا رہے ہوتے۔ اس کی عظمت کے قصے سنا رہے ہوتے۔ ہر ملک میں ایسا ہی ہوتا۔ یہ سب پاکستان میں بھی ہوا لیکن اس کے مابین کچھ نامانوس آوازیں سنائی دیں جو نہ اس کارنامے پر فخر کر رہی تھیں بلکہ اس کامیابی پر شکوک کا اظہار کر رہی تھیں۔ اپنی فتح پر شکست کی تہمت لگا رہی تھیں۔ یہ کسی ملک میں نہیں ہوتا۔

آج فخر درانی کی خبر سے پتا چلتا ہے کہ یہ آوازیں کہاں سے اٹھتی تھیں۔ کہاں سے واٹس ایپ کے نفرت انگیز بیانات آتے تھے۔ کہاں سے نامانوس یوٹیوب چینلوں کے کلپ معروف ہوتے تھے۔ کہاں سے نت نئی ویب سائٹس پر اپنی فوج کے خلاف موشگافیاں ہوتی تھیں۔ کہاں سے فیس بک کے ملک دشمن پیجز تخلیق پاتے تھے۔ کہاں سے نفرت کا یہ بیوپار ہوتا تھا۔ کہاں سے یہ دروغ گوئی تخلیق ہوتی تھی۔

ایک بات اور سن لیں۔ حالیہ دور میں پاکستان نے سفارت کاری کے میدان میں بے پناہ نام کمایا۔ دنیا بھر کے سربراہان نے پاکستان کی توصیف کی۔ ثالثی کامیاب ہوئی کہ نہیں، یہ الگ قصہ ہے مگر پاکستان کا پرچم بلند ہوا۔ یہ ہر پاکستانی کے لیے فخر کا لمحہ تھا تو سوچیے، کون تھے جو اس شہرت کو گھن لگا رہے تھے۔ کون تھے جو اس ثالثی میں پاکستان کے کردار کے خلاف بات کر رہے تھے۔

فخر درانی کی اسٹوری سے وہ بدنما، زر خرید کردار اور ان کے بھارتی مالکان سامنے آ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر عطا تارڑ نے بھی اس مسئلے پر بات کی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں کون لوگ ہیں جو علیحدگی کی بات کر رہے ہیں؟ کون لوگ ہیں جو بھارت کی زبان بول رہے ہیں؟ اب یہ غدارانِ ملت پکڑے جا رہے ہیں۔ اس کا کریڈٹ فخر درانی کو جاتا ہے۔ اس کی مبارک باد کے مستحق انصار عباسی بھی ہیں اور جیو کے ادارے کا بھی اس مبارک باد پر حق بنتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایرانی بحری جہاز پر حملہ، تہران کی یوکرین کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی

بھارتی کرکٹر ارشدیپ سنگھ نے اداکارہ سمرین کور کے ساتھ تعلقات کا اعلان کر دیا، پیغام میں کیا لکھا؟

سیاسی جماعتیں ضابطۂ اخلاق کی پابندی کریں، عوام کو آزادانہ حقِ رائے دہی کا موقع ملنا چاہیے، شیری رحمان

میرپور ڈویژن میں پولنگ پرامن ماحول میں جاری: عوام بھرپور انداز میں ووٹ ڈالیں، چیف الیکشن کمشنر

صدر، وزیراعظم اور وفاقی وزرا کو ملے تحائف توشہ خانے میں جمع، تفصیلات جاری

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش