وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی حکومت کے حجم میں کمی (رائٹ سائزنگ) اور حکومتی استعدادِ کار میں اضافے سے متعلق اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تربیت کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جائے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت وفاقی حکومت کے حجم میں کمی اور اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں رائٹ سائزنگ کمیٹی کی جانب سے اقدامات پر پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے حکومت نے سالانہ 56 ارب روپے کی بڑی بچت کیسے کی؟
وزیراعظم نے کہا کہ غیر ضروری آسامیوں اور عہدوں کا خاتمہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کے تحت ختم کی گئی آسامیوں اور اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے تاکہ عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ اقدامات کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن، پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) اور پاسکو کو بند کیا جا چکا ہے، جس سے قومی خزانے پر اخراجات کا بوجھ کم ہو رہا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ اقدامات کے نتیجے میں سول حکومت کے اخراجات کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تناسب کم ہوا ہے، جبکہ مختلف وزارتوں اور سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کا بھی خاتمہ کیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) اور خودمختار اداروں کی رائٹ سائزنگ سے متعلق تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے یوٹیلیٹی اسٹورز میں بدترین کرپشن تھی، جدید نظام سے کرپشن کا خاتمہ ہوگیا، وزیراعظم شہباز شریف
بریفنگ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
وزیراعظم نے رائٹ سائزنگ کمیٹی کو ہدایت کی کہ اپنی باقی ماندہ سفارشات ایک ماہ کے اندر مکمل کرے اور حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد مزید تیز کیا جائے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔












