کراچی: شرپسندی کے بجائے تحمل، ذمہ داری اور قومی استحکام وقت کی ضرورت

اتوار 1 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں امریکی قونصل خانے کے قریب پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ایک بار پھر یاد دہانی کراتا ہے کہ پرتشدد ردعمل ہمیشہ اپنے ہی لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سانحے میں 6 شہری اور 3 پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ 10 افراد زخمی ہوئے، جو قومی نقصان کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ: خلیجی ممالک کی فضائی حدود بند، پروازیں معطل، مسافروں کو ہدایات جاری

حکام نے کہا کہ ریاستی اداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا یا انہیں غیر ضروری دباؤ میں ڈالنا ملک کے اندرونی استحکام کو کمزور کرتا ہے۔ ایسے نازک حالات میں ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھے اور اشتعال انگیزی سے بچیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے ایران کی حمایت میں تحمل اور پرامن رویہ اپنانے کی اپیل کر دی

احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن اسے ہر صورت پُرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے تاکہ کسی قسم کی بدامنی یا مزید جانی نقصان نہ ہو۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ قومی اتحاد، نظم و ضبط اور استحکام ہی اس وقت پاکستان کی اصل طاقت ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘