ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اسرائیل اور امریکا کے حملے میں شہید ہو گئے، ان کی عمر 86 برس تھی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح ان کی شہادت کی تصدیق کی، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں وہ مارے گئے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق حملے میں خامنہ ای کی صاحبزادی، داماد اور پوتا بھی شہید ہوئے۔
اقتدار تک رسائی اور نظریاتی تسلسل
آیت اللہ خامنہ ای نے 1989 میں ایران کی قیادت سنبھالی، جب اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کا انتقال ہوا۔
جہاں خمینی نے پہلوی بادشاہت کے خاتمے اور اسلامی انقلاب کی نظریاتی بنیاد رکھی، وہیں خامنہ ای نے ایران کے عسکری اور نیم عسکری ڈھانچے کو مضبوط کیا، جو نہ صرف ملکی دفاع بلکہ سرحدوں سے باہر اثر و رسوخ کا ذریعہ بنا۔

اس سے قبل وہ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران صدر رہ چکے تھے۔ مبصرین کے مطابق اس جنگ اور مغربی ممالک کی جانب سے عراقی رہنما صدام حسین کی حمایت نے ان کے اندر مغرب، خصوصاً امریکا کے بارے میں گہرا عدم اعتماد پیدا کیا۔
سکیورٹی ریاست کا تصور
ماہرین کے مطابق خامنہ ای کے نزدیک ایران کو بیرونی و داخلی خطرات کے مقابل مسلسل دفاعی حالت میں رہنا چاہیے۔ اسی وژن کے تحت اسلامی انقلابی گارڈ کور ایک طاقتور سیکیورٹی، سیاسی اور معاشی ادارے میں تبدیل ہوا۔
انہوں نے مغربی پابندیوں کے مقابلے کے لیے مزاحمتی معیشت کا نظریہ پیش کیا اور مغرب کے ساتھ تعلقات میں سخت احتیاط برتی، ناقدین کے مطابق ان کی دفاعی ترجیحات نے اصلاحات کی رفتار کو متاثر کیا۔
اندرونی چیلنجز اور احتجاج
ان کی قیادت کو مختلف ادوار میں سخت آزمائشوں کا سامنا رہا۔ 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا، جسے سختی سے دبایا گیا۔ 2019 میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور 2022 میں خواتین کے حقوق سے متعلق مظاہروں نے بھی حکومت کو چیلنج کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان مظاہروں کے دوران سیکڑوں افراد مارے گئے، جبکہ حکومت نے ان احتجاجوں کو بیرونی سازش قرار دیا۔
جوہری معاہدہ اور عالمی سیاست
2015 میں ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تاکہ پابندیاں کم کی جا سکیں۔ تاہم 2018 میں صدر ٹرمپ نے امریکا کو معاہدے سے الگ کر لیا۔ اس کے بعد ایران نے یورینیم افزودگی کی سطح میں اضافہ کیا، اگرچہ تہران مسلسل مؤقف اپناتا رہا کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
محورِ مزاحمت کی حکمت عملی
خامنہ ای کی خارجہ پالیسی میں محورِ مزاحمت مرکزی حیثیت رکھتا تھا، جس میں لبنان کی حزب اللہ، فلسطین کی حماس، یمن کے حوثی اور عراق و شام کے اتحادی گروہ شامل تھے۔

اس حکمت عملی کے معمار قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی تھے، جو 2020 میں امریکی حملے میں مارے گئے۔
2025 میں اسرائیل نے ایران کے جوہری اور عسکری اہداف پر حملے کیے، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان قریباً 2 ہفتے تک شدید جنگ جاری رہی۔ اسی دوران خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ابتدائی زندگی اور سیاسی سفر
1939 میں مشہد میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے دینی تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو گئے۔ 1979 کے انقلاب سے قبل انہیں شاہ کی خفیہ پولیس نے متعدد بار گرفتار کیا۔ انقلاب کے بعد وہ وزیر دفاع اور بعد ازاں صدر منتخب ہوئے۔
1989 میں آئینی ترمیم کے بعد انہیں سپریم لیڈر مقرر کیا گیا، حالانکہ اس وقت ان کے پاس اعلیٰ ترین مذہبی منصب کا درجہ نہیں تھا۔

بدلتا ہوا منظرنامہ
حالیہ برسوں میں معاشی دباؤ، سخت پابندیوں اور کرنسی بحران کے باعث ایران میں بے چینی بڑھی۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار متحدہ عرب امارات اور جنیوا میں ہوئے، مگر کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔
28 فروری کو صدر ٹرمپ نے ایران میں بڑی عسکری کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا اور ایرانی عوام سے حکومت سنبھالنے کی اپیل کی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں داخلی استحکام، معاشی بحالی اور عالمی تعلقات اس کے مستقبل کا تعین کریں گے۔














