کیا مغربی میڈیا بھی حالت جنگ میں ہے؟

پیر 2 مارچ 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور اسرائیل تو عرصہ ہوا حالت جنگ میں ہیں، سوال یہ ہے کیا مغرب کا میڈیا بھی حالت جنگ میں ہے؟ کیا اس کی رپورٹنگ قابل بھروسہ اور غیر جانبدارانہ ہے یا اس نے باقاعدہ انفارمیشن وار کا مورچہ سنبھال رکھا ہے؟

ایران پر حالیہ حملہ دیکھ لیجیے۔ مغربی میڈیا میں کہیں زیر بحث نہیں آیا کہ اس حملے کے بارے میں انٹرنیشنل لا اور اقوام متحدہ کا چارٹر کیا کہتا ہے، اس نے ایران کے ایک اسکول میں ماری جانے والی معصوم بچیوں کو بھی مکمل نظر انداز کیا ہے۔ اس نے اس نکتے پر بھی بات نہیں کی کہ مذاکرات کے عمل کے دوران جارحیت کا جواز کیا تھا۔ اس طرح کے ڈھیروں سوالات کو پس پشت ڈال کر اس نے ایک نئی واردات ڈال دی کہ ایران پر حملہ سعودی عرب کی خواہش پر ہوا۔ میرے جیسے طالب علم کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ خبر نہیں تھی، یہ واشنگٹن پوسٹ کے ڈس انفارمیشن کے مورچے سے داغا گیا میزائل تھا۔

امریکی اسرائیلی حملے کے بعد کا مورچہ واشنگٹن پوسٹ نے سنبھال لیا ہے۔ ساری بحث کو ایک نیا زاویہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کو تو ایران سے کوئی فوری خطرہ محسوس نہیں ہو رہا ہے لیکن سعودی عرب جیسے علاقائی حلیفوں کا اصرار تھا کہ یہی وقت ہے حملہ کیا جائے۔ ایک خبر کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ امریکا تو ایسا نہیں چاہتا تھا، ٹرمپ تو بڑا معصوم سا تھا، بس سعودی عرب نے کہا تو بے چارا مجبور ہوگیا۔

اس واردات کا مقصد واضح ہے، مسلم دنیا کے اندر تقسیم اور منافرت کو فروغ دینا تاکہ مسلم معاشرے دائمی طور پر جنگ کا میدان بنے رہیں اور آپس میں لڑتے مرتے رہیں۔ ایک اسلامی ملک اور مکتب فکر کو گہرا صدمہ پہنچا ہے، ہنر کاری سے اس کی ذمہ داری دوسرے اسلامی ملک پر ڈال دو۔ تاکہ مسلم دنیا آنے والی کئی دہائیوں تک نفرت اور انتقام میں سلگتی رہیں۔

دستیاب شواہد اس خبر کی مکمل نفی کر رہے ہیں ۔ یہ خبر بغیر کسی ذریعے کی دی گئی، کسی حکومتی شخصیت کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ۔ یہ امریکا سے ’نامعلوم‘ ذرائع کی جاری کردہ خبر ہے۔

پھر یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب سعودی عرب اور ایران میں بڑی حد تک برف پگھلتی دکھائی دے رہی تھی۔ چین کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آ رہے تھے۔ جون 2023 میں سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے ہاں 7 سال کے طویل عرصے کے بعد سفارت خانے کھول چکے تھے۔

اس وقت بھی سعودی عرب کا کردار خیر خواہانہ ہے۔ اس نے خلیجی ممالک سے کہا ہے کہ ایسا کوئی اقدام نہ کریں جس سے ایران کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوں۔ اس پس منظر میں یہ بات واضح ہے کہ یہ خبر جھوٹی ہے اور اس کا مقصد امریکی اورر اسرائیلی حملے کے بعد ہونے والی سارے بحث اور گفتگو کو مرضی کا رخ دینا ہے۔

ہمارے ہاں پائی جانے والی بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ مغربی میڈیا بہت پروفیشنل، بہت ذمہ دار اور بہت قابل بھروسہ ہے۔ اس مرعوبیت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مغرب سے آئی ہر خبر کو عجیب سے برخوردارانہ تیقن سے دیکھا جاتا ہے جیسے یہ تو غلط ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن کیا ہمیں معلوم ہے کہ اس پروفیشنل، ذمہ دار اور قابل بھروسہ میڈیا کا حقیقی روپ کیا رہا ہے؟

یہ جاننا اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں اہل صحافت کی ایک بڑی تعداد ان ہی اصطلاحات کو استعمال کرنا، فکری وجاہت کا ثبوت سمجھتی ہے جو اصطلاحات مغربی میڈیا میں استعمال ہوئی ہوں۔ اصطلاحات کے اس کھیل کو سمجھ لینا چاہیے تو واشنگٹن پوسٹ کی سعودی عرب کے بارے میں دی گئی اس خبر کی شان نزول کو بھی آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔

مثال کے طور پر فلسطین کے معاملے میں مغربی میڈیا کی اصطلاحات کو دیکھ لیتے ہیں۔ مغربی میڈیا میں فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو ’اسرائیل حماس تنازعہ‘ یعنی’اسرائیل حماس کانفلکٹ ‘ کا عنوان دیا گیا ہے اور بالعموم یہی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ چنانچہ یہی اصطلاح پاکستان کے انگریزی پریس میں بھی آپ کو کثرت سے ملے گی۔ اب اس پر غورکیجیے کہ اسے اسرائیل فلسطین تنازعہ کیوں نہیں کہا جاتا؟

اس کی دو جوہات ہیں، پہلی یہ کہ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ جیسے یہ فلسطین کے ساتھ جنگ نہیں ہے بلکہ یہ ایک دہشت گرد جتھہ ہے جس سے لڑائی کی جا رہی ہے۔ دوسرا ان کی کوشش ہے کہ فلسطین کا نام جس حد تک ممکن ہو استعمال کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ دھیرے دھیرے یہ اجتماعی یادداشت سے ہی محو ہو جائے۔

ایک طرف کی غاصب اور ناجائز آباد کار قوت کے تو ملک کا نام لیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب ایک جائز ملک کا نام نہیں لیا جاتا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ اس کو کبھی’لیکوڈ حماس تنازعہ‘ نہیں قرار دیا گیا۔

فلسطیننی جب بھی اپنے دفاع میں کچھ کریں تو اسے دہشت گردی کہا جاتا ہے لیکن اسرائیل جو بھی ظلم کر لے اسے ہمیشہ اسرائیل کا حق دفاع سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ بین الااقوامی قوانین کے تحت اسرائیل قابض اور غاصب ہے جب کہ فلسطینی اپنے دفاع کی جائز جنگ لڑ رہے ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے دہشت گرد کا لفظ استعمال ہوتا ہے لیکن اسرائیل کے جرائم پیشہ آباد کار اگر فلسطینی بستیوں میں جا گھسیں اور وہاں قتل عام کر آئیں تو ان کے لیے ’ویجیلانٹے‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یعنی یہ وہ اچھے اچھے رضاکار ہیں جو اپنے طور پر قانون نافذ کرنے چلے جاتے ہیں۔

مغربی میڈیا میں بالعموم یہ نہیں ملے گا کہ اسرائیل نے جارحیت کی۔ یہی کہا جائے گا کہ اس نے جوابی کارروائی کی۔ اسرائیل اگر اسی ہزار نہتے مسلمانوں کو قتل کر دے تب بھی اسے نسل کشی نہیں یہ نہیں کہا جائے گا۔ اسرائیل کے ہاتھوں اقوام متحدہ کا اسٹاف قتل ہو جائے پھر بھی یہ دہشت گردی نہیں ہے۔ دوسری جانب فلسطینی اگر نہتے شہریوں کی بجائے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کریں جو ان کے علاقوں میں گھسے ہوئے ہیں تب بھی اسے دہشت گردی کہا جائے گا۔

نیویارک ٹائمز نے تو اپنے اسٹاف کے لیے باقاعدہ ہدایت نامہ جاری کیا کہ اس جنگ کی کوریج کیسے کرنی ہے۔ چنانچہ اس میں ہدایت کی گئی کہ قتل عام اور نسل کشی جیسی اصطلاحات استعمال نہیں کرنی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حملے کے بعد جو صرف ایک حملہ تھا نیویارک ٹائمز نے 55 بار قتل عام کا لفظ استعمال کیا لیکن اسرائیل کے ہاتھوں پورا غزہ تباہ ہوگیا اور اسی ہزار لوگ شہید ہوگئے لیکن اس کے لیے قتل عام کا لفظ استعمال نہ کیا جا سکا۔

یہ بھی ہدایت کی گئی مقبوضہ علاقہ جات یا مقبوضہ فلسطین جیسے الفاظ بھی استعمال نہیں کرنے۔ حتیٰ کہ پناہ گزین کیمپ کا لفظ استعمال کرنے سے بھی منع کیا گیا۔ یہ ہدایت بھی باقاعدہ طور پر اس میمو کا حصہ تھی کہ فلسطین کا لفظ استعمال نہ کیا جائے۔

سوال وہی ہے: امریکا اور اسرائیل تو عرصہ ہوا حالت جنگ میں ہیں، سوال یہ ہے کیا مغرب کا میڈیا بھی حالت جنگ میں ہے؟ کیا اس کی رپورٹنگ قابل بھروسہ اور غیر جانبدارانہ ہے یا اس نے باقاعدہ انفارمیشن وار کا مورچہ سنبھال رکھا ہے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی میں کتنے امریکی فوجی حصہ لے رہے ہیں؟

سونے کے خریداروں کے لیے بڑی خوشخبری، آج قیمت میں کتنی کمی ہوئی؟

ٹی20 ورلڈ کپ کا پہلا سیمی فائنل: جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ مین سے کون اپنا ریکارڈ برقرار رکھ پائے گا؟

جاوید مہانڈری پولیس اہلکار کی فائرنگ سے قتل: ’قاتل کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے‘

فرنس آئل پر کاربن لیوی معطلی کے لیے حکومت کا آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا امکان

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے