پی ایس ایل 11 کا آفیشل لوگو جاری، منفرد کیا ہے؟

بدھ 4 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11 ویں ایڈیشن کے لیے آفیشل لوگو باضابطہ طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔ لیگ کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے لوگو شیئر کیا گیا جس میں اردو میں ’گیارہ‘ کے ساتھ ساتھ ہندسہ 11 بھی نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے۔

اس سال پی ایس ایل میں مجموعی طور پر 8 ٹیمیں حصہ لیں گی جو اپنے بہترین کھیل کے لیے تیار ہیں۔ شائقین بھی لیگ کے آغاز کے لیے بے حد پرجوش ہیں اور ہر ٹیم کی کارکردگی دیکھنے کے منتظر ہیں۔

پی ایس ایل 11 کا باقاعدہ آغاز 26 مارچ سے لاہور میں ہو گا جہاں افتتاحی میچ میں لاہور قلندرز نئی فرنچائز حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین کے مدمقابل ہوں گے۔   افتتاحی تقریب لاہور میں منعقد کی جائے گی۔

اس سیزن میں لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کی گئی ہیں، حیدرآباد ہیوسٹن کنگز مین اور پنڈیز۔ جبکہ سیالکوٹ اسٹالینز کو ملتان سلطانز کے نام سے ری برانڈ کیا گیا ہے۔ اس سیزن میں کچھ میچ پہلی بار پشاور کے عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں بھی کھیلے جائیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ دنیا کی مقبول ترین ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگوں میں شمار ہوتی ہے اور ہر سال اس کے مقابلوں کا کرکٹ شائقین بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کی مدد کے الزام میں امریکا کی بھارتی جوڑے اور ترک کمپنی پر پابندیاں

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا