تباہ ہونے والے ایرانی بحری جہاز کے عملے کی لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ جاری، 87 باڈیز نکال لی گئیں

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

سری لنکا کے قریب سمندر میں ڈوبنے والے ایرانی بحری جہاز کے عملے کی لاشوں کی برآمدگی کا عمل جاری ہے، جبکہ خطے میں پہلے سے موجود ایران امریکا کشیدگی نے اس واقعے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔

سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والے ایرانی جہاز میں سوار افراد میں سے کم از کم 87 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ اس سے قبل تقریباً 100 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی بحری جنگی جہاز پر امریکی حملہ، بھارت کی متضاد پالیسی اور بحرِ ہند میں اس کے کردار پر سوالات

وزیر خارجہ کے مطابق سری لنکا نیوی اور سری لنکا ایئر فورس نے 1979 میں دستخط شدہ بین الاقوامی میری ٹائم سرچ اینڈ ریسکیو کنونشن کے تحت فوری امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ بحری اور فضائی یونٹس نے مشترکہ طور پر سرچ آپریشن کیا اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

یاد رہے کہ بحرِ ہند اور سری لنکا کے اطراف کے سمندری راستے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے ایسے کسی بھی واقعے کے علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘