لیاری کی تنگ و تاریک گلیوں میں فٹبال کسی اسٹیڈیم کا انتظار نہیں کرتا۔ رمضان کے دوران، یہ کھیل سڑکوں پر راج کرتا ہے۔ جیسے ہی افطار ختم ہوتی ہے اور عشا کی نماز ادا کر لی جاتی ہے، چھوٹے لڑکے اور نوجوان ہاتھوں میں ایک سادہ سی گیند لیے چھوٹی چھوٹی گلیوں میں جمع ہو جاتے ہیں۔ وہاں نہ کوئی گول پوسٹ ہوتی ہے، نہ ریفری اور نہ ہی کوئی بڑا ہجوم۔ بس چپلوں یا اینٹوں سے نشان زدہ دو عارضی گول ہوتے ہیں۔ یہ ’ڈی بال‘ ہے، گلیوں میں کھیلے جانے والے فٹ بال کی ایک منفرد روایت جو صرف رمضان میں زندہ ہوتی ہے۔
عام فٹبال کے برعکس، ڈی بال کو کسی بڑے میدان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ کھیل تنگ جگہوں کے لیے ہی بنایا گیا ہے۔ گلیاں میدان بن جاتی ہیں اور دیواریں حدیں (باؤنڈریز)۔ ان تنگ راستوں میں خود کو برقرار رکھنے کے لیے تیز پاسز، پھرتیلے موڑ اور گیند پر بہترین کنٹرول ہی واحد راستہ ہے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کم جگہ اس کھیل کو مزید تیز اور مہارت طلب بنا دیتی ہے۔
لیاری عرصہ دراز سے پاکستان میں فٹبال کے گڑھ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ قومی سطح کے کئی کھلاڑیوں کی جڑیں اسی علاقے میں پیوست ہیں۔ لیکن رمضان کے دوران یہاں ڈی بال ایک کھیل سے بڑھ کر بن جاتا ہے۔ یہ ایک سماجی اجتماع کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ خاندان اپنے گھروں کے باہر بیٹھ کر میچ دیکھتے ہیں۔ بچے بڑے لڑکوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور دوست رات گئے تک ایک دوسرے کو چیلنج دیتے ہیں۔
کئی نوجوانوں کے لیے ڈی بال محض ایک کھیل نہیں ہے یہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہونے والی روایت ہے۔ پرانے کھلاڑیوں کو یاد ہے کہ جب وہ بچے تھے تو وہ بھی اسی طرح گلیوں میں میچ کھیلا کرتے تھے۔ اب وہ نئی نسل کو اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
ایسی جگہ جسے اکثر مشکلات اور جدوجہد سے جوڑا جاتا ہے، لیاری کی رمضان کی راتیں ایک الگ ہی کہانی سناتی ہیں۔ ایک ایسی کہانی جو اسٹریٹ لائٹس تلے، ایک سادہ سی گیند اور بڑے خوابوں کے ساتھ، توانائی، جنون اور اتحاد سے عبارت ہے۔













