اسرائیلی میڈیا کے مطابق وسطی اسرائیل پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ 2 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد آلودہ ہوا پاکستان پہنچ سکتی ہے، محکمہ موسمیات کا انتباہ
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ کلسٹر وارہیڈ سے لیس میزائل کے ٹکڑے وسطی اسرائیل کے کم از کم 6 مقامات پر گرے۔
طبی حکام کے مطابق یہود کے علاقے میں ایک تعمیراتی مقام پر ایک شخص ہلاک ہوا۔
جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں زمین پر بڑے گڑھے اور گاڑیوں و عمارتوں کو دھماکوں سے پہنچنے والا نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا داخلی معاملہ ہے، چین
ایران اسرائیل پر متعدد بیلسٹک میزائل داغ چکا ہے جن میں کلسٹر بم وارہیڈ نصب ہوتے ہیں جو وسیع علاقے میں چھوٹے بم پھیلا دیتے ہیں۔
Footage shows two of the Iranian cluster bomb munitions' impacts in central Israel during the ballistic missile attack this morning.
A total of six cluster munition impact sites were reported across central Israel, killing one and seriously injuring two others. pic.twitter.com/8QEXYcuQXT
— Emanuel (Mannie) Fabian (@manniefabian) March 9, 2026
وسطی اسرائیل میں میزائل حملے، متعدد علاقوں میں دھواں اٹھنے کی اطلاعات
ایران کی جانب سے وسطی اسرائیل میں کیے گئے میزائل حملے میں کئی علاقوں سے دھواں اٹھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیل میں راکٹ فائرنگ کی وجہ سے سائرن تقریباً مسلسل بج رہے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوجی سینسر نے ابھی تک اس حوالے سے معلومات کی اشاعت کی اجازت نہیں دی ہے لیکن عینی شاہدین کے مطابق متعدد مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔
حملے کا نشانہ بنایا گیا علاقہ وسطی اسرائیل میں واقع ہے جہاں تقریباً 44 فیصد آبادی آباد ہے۔ یہاں بن گوریون ائیرپورٹ، متعدد فوجی اڈے، وزارت دفاع اور موساد کے ہیڈکوارٹرز موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقہ اسرائیل کے لیے انتہائی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔
اسی دوران حائفہ اور شمالی علاقوں میں ایران یا لبنان میں موجود حزب اللہ کی جانب سے راکٹ فائرنگ کے باعث الارمز اور سائرنز مسلسل بج رہے ہیں۔
ایران پر اسرائیل کے نئے حملے
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حملے تہران، اصفہان اور جنوبی ایران میں ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیے جا رہے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر کے خلاف جاری بڑے پیمانے کے حملوں کا حصہ ہیں۔
اس حوالے سے جاری بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسرائیلی فوج نے یہ بیان اپنے ٹیلیگرام چینل پر جاری کیا ہے۔
فرانس کا بحیرہ احمر میں 2 جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے بحری مشن ’ایسپائڈز‘ کے تحت 2 جنگی فریگیٹ تعینات کرے گا۔
مزید پڑھیں: وطن واپسی کے لیے بسوں کا حصول مشکل، شہری اپنی رجسٹریشن لازمی کریں، ایران میں پاکستانی سفیر کی ہدایت
صدر میکرون کے مطابق یہ اقدام بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے قبرص میں قبرصی صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈز اور یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ اس وقت ایک ایسا مشن ترتیب دیا جا رہا ہے جو مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔
میکرون کا کہنا تھا کہ یہ مشن یورپی اور غیر یورپی ممالک کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ بحیرہ احمر میں کشیدگی کے دوران بحری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
روسی صدر پیوٹن کی ایران کے نئے سپریم لیڈر کو مبارک باد
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اس عہدے پر تعیناتی پر مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے۔
اپنے پیغام میں صدر پیوٹن نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ایران کو جارحیت کا سامنا ہے اس اعلیٰ عہدے پر آپ کی ذمہ داریاں یقیناً حوصلے اور لگن کا تقاضا کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ وقار کے ساتھ اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور مشکل حالات میں ایرانی قوم کو متحد رکھیں گے۔
صدر پیوٹن نے اپنے بیان میں روس کی جانب سے ایران کے لیے حمایت کا اعادہ بھی کیا اور کہا کہ روس ہمیشہ ایران کا قابل اعتماد شراکت دار رہے گا۔
نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کی تصدیق، امریکا کا محتاط رویہ
ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کی تصدیق کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے ردعمل میں نمایاں فرق دیکھا گیا ہے، جو ایران کی بدلتی قیادت کے جواب میں مختلف حکمت عملیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محتاط امریکی ردعمل
اب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے جانشینی فیصلے پر براہِ راست تنقید سے گریز کیا ہے بلکہ اس پیش رفت کو توانائی کی منڈیوں اور امریکی اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے تناظر میں پیش کیا۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کے ایک گھنٹے بعد ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا کہ عارضی طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی استحکام اور سلامتی کے مقابلے میں معمولی قیمت ہے۔
https://Twitter.com/RapidResponse47/status/2030779662230495453
تاہم، اتوار کو اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے دوبارہ یہ تجویز دی کہ ایران کے اگلے رہنما کو واشنگٹن کی منظوری کی ضرورت ہوگی، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امریکا قابل قبول قیادت کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں ہلچل، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر
اگرچہ صدر ٹرمپ نے خامنہ ای کی ممکنہ تقرری کو مسئلہ قرار دیا، مگر انہوں نے براہِ راست فوجی کارروائی کی دھمکی نہیں دی۔
یہ رویہ امریکا کے توازن کو ظاہر کرتا ہے: ملکی سیاسی بیانیے کو سنبھالنا، عالمی توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنا، اتحادیوں کو مطمئن کرنا، اور علاقائی تنازعات کو قابو میں رکھنا بغیر کسی کھلی جنگ کو ہوا دیے۔
جارحانہ اسرائیلی ردعمل
اس کے برعکس، اسرائیل نے واضح طور پر متصادم موقف اختیار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کیٹز نے خبردار کیا کہ ایران کی حکمران اشرافیہ سے وابستہ کوئی بھی نیا رہنما ’غیر مشروط ہدف برائے خاتمہ‘ ہوگا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ جانشینوں کو ذاتی طور پر جوابدہ ٹھہرائے گی، جو تل ابیب کی تیاری کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایرانی قیادت کے خلاف مخصوص کارروائیاں جاری رکھے گا، جنہیں وہ خطرہ سمجھتی ہے۔
https://Twitter.com/AJEnglish/status/2029084342878650559
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی باضابطہ تقرری سے پہلے ہی، اسرائیل نے ایران کے انفراسٹرکچر اور خطے میں پراکسی پوزیشنز پر حملے تیز کر دیے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف پالیسی بلکہ تہران کی اسٹریٹجک سمت سے وابستہ افراد پر بھی دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
اثرات
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو مبینہ طور پر اسلامی انقلابی گارڈ کورز کے قریب ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھنے والے رہنما کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، نہ کہ اعتدال کی طرف رجحان پیدا کرنے والے۔
ان کا انتخاب مرحوم والد، آیت اللہ علی خامنہ ای کے قائم کردہ نظریاتی راستے کو برقرار رکھتا ہے اور موجودہ طاقت کے ڈھانچے کی پائیداری کا عندیہ دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، بہت سے ایرانی عوام امید کرتے تھے کہ منتخب نمائندوں کی قیادت میں نظام کی طرف تبدیلی آئے گی، لیکن علاقائی تنازعات اور بیرونی مداخلت کے دباؤ کی وجہ سے یہ خواہش محدود ہو گئی ہے۔
واشنگٹن کے لیے یہ تقرری ممکنہ سفارتی تعلقات کو پیچیدہ بنا دیتی ہے، ایک رہنما جو ایران کے سیکیورٹی ادارے اور نظریاتی نظام سے جڑا ہو، جس کے خاندان کو پہلے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نقصان پہنچ چکا ہے، اس کے مستقبل قریب میں مذاکرات میں شراکت دار بننے کے امکانات کم ہیں۔
امریکی ردعمل ایک سنجیدہ حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جو فوجی تصادم سے گریز کرتے ہوئے اثر و رسوخ قائم رکھنے، توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے، اور یورپی اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غیر مستحکم صورتحال کا انتظام کرنے پر مشتمل ہے۔
ایک اور امریکی فوجی کی ہلاکت
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک اور امریکی فوجی ہلاک ہو گیا ہے، جس کے بعد اس تنازع میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔ یہ تصدیق ایک روز بعد سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ میں مارے گئے فوجیوں کی یاد میں منعقدہ تقریب میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا تھا۔
ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت نے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا اعلان کر دیا ہے۔ انہیں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا ہے۔

دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق قم اور تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اس سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی حملوں میں ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے باعث تہران میں زہریلا دھواں پھیل گیا۔
ایران کی جوابی کارروائیوں کے دوران سعودی عرب کے شہر الخرج میں 2 افراد ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپوں کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسلسل گولہ باری کے باعث لبنان میں 5 لاکھ سے زیادہ افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس تنازع کے باعث مختلف ممالک میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ خطے کی صورتحال تیزی سے سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
ایران سے فضائی آلودگی پاکستان پہنچ سکتی ہے، محکمہ موسمیات
پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل کی تنصیبات پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی ہوا کے ذریعے پاکستان کے مغربی علاقوں تک پہنچ سکتی ہے جس سے فضائی معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ایران کی موجودہ صورتحال کے باعث ہوائیں آلودہ ذرات کو پاکستان کے مغربی حصوں کی طرف لے جا سکتی ہیں جس سے وہاں کی فضا مزید خراب ہو سکتی ہے۔’
7 مارچ کو تہران میں آئل ریفائنریوں اور ایندھن کے ڈپو پر بڑے فضائی حملوں کے بعد شہر پر زہریلا دھواں چھا گیا ہے جبکہ اتوار کو سیاہ اور تیل آلود بارش بھی رپورٹ ہوئی۔ تیل کی تنصیبات سے اٹھنے والے گھنے سیاہ دھوئیں نے کئی علاقوں میں سورج کی روشنی کو بھی مدھم کر دیا۔
خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ پیر کے روز بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت تقریبا 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں اور توانائی کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
بین الااقوامی معیار کے خام تیل برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر بڑھ کر 119َ.50 ڈالر فی بیرل تک جاپہنچی تاہم بعد میں مارکیٹ میں کچھ استحکام آیا اور قیمت کم ہو کر تقریباً 112َ.98 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگی۔
ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بنیادی طور پر مشرق وسطی میں جنگی خطرات اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث ہوا ہے
امریکا میں پیدا ہونے والا معیاری خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تیزی سے مہنگا ہوا۔ اس کی قیمت ایک مرحلے پر 119َ.48 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، تاہم بعد ازاں یہ کم ہوکر 110َ.17 ڈالر فی بیرل تک آگئی۔
توانائی کے شعبے کی تحقیقی کمپنی رائسٹڈ انرجی کے مطابق دنیا کے تقریباً 15 ملین بیرل خام تیل روزانہ آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے جو عالمی تیل کی کل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات کے باعث کئی بین الاقوامی آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز کے راستے سفر سے گریز کیا ہے۔ اس راستے سے تیل اور گیس لے جانے والے جہاز عام طور پر قطر، عراق، سعودی عرب، بحرین، کویت متحدہ عرب امارات سے تیل اور گیس لے کر دنیا کے مختلف ممالک کو سپلائی کرتے ہیں۔
جنگی صورتحال کے باعث عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات کو خام تیل کی برآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ برآمدات کم ہونے کی وجہ سے ان ممالک کے اسٹوریج ٹینک بھر گئے ہیں جس کے باعث انہیں تیل کی پیداوار میں کمی کرنا پڑی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگِ ایران شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اس دوران تیل اور گیس کی مختلف تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال مزید بگڑتی ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا داخلی معاملہ ہے، چین
چین کی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک داخلی معاملہ ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ ایران کی طرف سے اس کے آئین کے تحت کیا گیا فیصلہ ہے۔
گزشتہ روز چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی کہا کہ ایران کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بیرونی کوشش سے اس کے حکومتی نظام میں تبدیلی کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
وانگ یی نے واضح کیا کلر انقلاب کی سازش یا حکومت میں تبدیلی کی کوشش کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔
چین نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا اور اس کا مقصد خطے میں استحکام اور امن کی حمایت کرنا ہے۔
ایران میں 9 دنوں میں 1,255 افراد شہید، 12 ہزار سے زائد زخمی
ایران کے نائب وزیر صحت علی جعفریان نے کہا ہے کہ گزشتہ 9 دنوں کے دوران ملک میں ہونے والے حملوں اور جھڑپوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس مدت میں 1,255 افراد شہید جبکہ 12 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
علی جعفریان کے مطابق شہید اور زخمی ہونے والے افراد کی عمریں 8 ماہ کے شیر خوار بچے سے لے کر 88 سال تک ہیں، جو اس تنازع کے وسیع انسانی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں 200 خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میناب ایلیمنٹری اسکول میں حملے کے نتیجے میں 168 بچے شہید ہوئے۔
ایرانی نائب وزیر صحت کے مطابق طبی شعبے سے وابستہ افراد بھی اس تنازع میں متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 55 طبی کارکن زخمی جبکہ 11 طبی اہلکار شہید ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں 4 ڈاکٹر، 2 نرسیں اور 3 ایمرجنسی ریسکیو ورکرز شامل ہیں۔
حکام کے مطابق بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ایران میں ایک سنگین انسانی بحران کی نشاندہی کر رہی ہے، جبکہ ہسپتالوں اور طبی عملے پر بھی شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
جنگِ ایران: چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا
چین کے حکومتِی خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ ژائی جون ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیجنگ خلیجی خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے ریاض کے ساتھ مل کر مسلسل کوششیں کرنے کے لیے تیار ہے۔
ژائی جون نے خود کو سعودی عرب کا اچھا دوست اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی سے ملاقاتیں کیں۔
پیر کو شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے دوران چینی ایلچی نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
ژائی جون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بے گناہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر کسی بھی حملے کی مذمت کی جانی چاہیے۔
چینی ایلچی نے ایک بار پھر بیجنگ کی جانب سے جاری اس مطالبے کو دہرایا کہ خطے میں جاری فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور امن کی راہ ہموار ہو۔
ایران : فوجی و سیاسی قیادت نئے سپریم لیڈر کی حمایت میں متحد ہوگئی
ایران میں سید مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور نئے سپریم لیڈر نامزدگی کے بعد ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت ان کے حق میں متحد ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب سے خوش نہیں ہوں گے۔ وہ انہیں ایک کمزور شخصیت قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بطور امریکی صدر وہ اس عمل میں اپنی رائے دینا چاہیں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ ایران کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ ملک کے مستقبل کے فیصلے خود ایرانی عوام اور قیادت کریں گے اور کوئی بھی بیرونی طاقت، چاہے وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایران کی سیاسی سمت کا تعین نہیں کر سکتی۔
الجزیرہ سے وابستہ رپورٹر نے تہران سے بتایا ہے کہ ایران کے تقریباً تمام اہم سیاسی اور سکیورٹی اداروں نے سید مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ان اداروں میں صدرِ مملکت، پارلیمنٹ کے اسپیکر، پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی)، مسلح افواج، بسیج نیم فوجی فورس، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، قومی پولیس اور دفاع و انٹیلی جنس کی وزارتیں شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے اتحاد کا ایک مضبوط پیغام بھی ہے، خاص طور پر ان طاقتوں کے لیے جو اس وقت ایران پر حملے کر رہی ہیں۔
ایران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ جنگ کے پہلے دن ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ملک میں فوری انتشار پیدا ہونے کی امیدیں پوری نہیں ہوں گی اور قیادت کی منتقلی کا عمل بھی یقینی بنا دیا گیا ہے۔
اس وقت ایرانی عوام اپنے نئے سپریم لیڈر کو دیکھنے اور ان کا پہلا خطاب سننے کے منتظر ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای اب تک عوامی سطح پر زیادہ سامنے نہیں آئے، اس لیے ان کے حامی ان کا چہرہ دیکھنے اور ان کی آواز سننے کے منتظر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کی سکیورٹی انتہائی حساس ہے، جس کی وجہ سے عوام سے رابطے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ نئے سپریم لیڈر کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے عوامی خطاب میں تاخیر کی جا رہی ہو۔














