2023 سے 2026 تک 4 بڑے آئی سی سی ایونٹس کھیلے گئے، 2023 میں ورلڈ کپ، 2024 میں ٹی20 ورلڈ کپ، 2025 میں چیمپیئنز ٹرافی اور اب 2026 میں ٹی20 ورلڈ کپ، ان چاروں بڑے ایونٹس کے فائنل بھارت نے کھیلے، جن میں سے 3 میں کامیابی حاصل کی اور 2023 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سے بھی منفرد بات یہ کہ ان 4 بڑے ایونٹس میں بھارت نے 34 میچ کھیلے اور صرف 2 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، ایک 2023 کے فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں اور ایک شکست 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کے خلاف۔
یہ جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے، اس پر یقین کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ یہ غیر معمولی کارکردگی ہے۔ ہم نے آسٹریلیا کا عروج دیکھا ہے، لیکن اب سوچتا ہوں کہ کیا آسٹریلیا نے اس طرح بادشاہت کی تھی جو اس وقت بھارتی ٹیم کررہی ہے؟
آج حال یہ ہے کہ بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے پہلے ہی یہ تاثر قائم ہوجاتا ہے کہ جیتنے والی ٹیم بھارت کی ہوگی، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایشیا کی ایک ایسی ٹیم جس کا ماضی کبھی اتنا روشن نہیں رہا، وہ اس مقام تک پہنچی کیسے؟
کہنے والوں کے پاس تو اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مگر میرے نزدیک بھارتی ٹیم کی شہنشاہت کے پیچھے وہ جذبہ ہے جو اسے ہر میچ جیتنے کے لیے بے قرار کررہا ہے۔ جب آسٹریلیا اپنے عروج پر تھی تب ہم نے اس ٹیم کو بھی ہر میچ جیتنے کے لیے پاگل ہوتے دیکھا ہے، مگر اب وہ سنجیدگی دکھائی دیتی ہے اور نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ پہلے ہی راؤنڈ میں ٹیم ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی اور اس نتیجے کے بعد بھی اس ٹیم کے کھلاڑیوں کو کھلکلاتے دیکھا ہے۔
اس موقعے پر مجھے محمد عامر کی بات یاد آگئی۔ 2024 میں جب پاکستانی ٹیم بھارت کے خلاف جیتا ہوا میچ ہاری تو اس کے بعد پوری قوم تو مایوس اور غصے میں تھی، مگر محمد عامر بتاتے ہیں کہ اس شکست کے بعد کئی کھلاڑی نہ صرف ڈریسنگ روم میں شغل کرتے رہے بلکہ میچ کے فوری بعد کچھ کھلاڑی شاپنگ پر بھی چلے گئے۔
چلیں اب بھارت کی بھی مثال لے لیتے ہیں۔ سنجو سیمسن جب ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیم میں شامل ہوئے تو ان کا اعتماد ٹوٹا ہوا تھا کیونکہ چند دن قبل ہی بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے صحافی کے سوال پر طنزیہ جواب دیا تھا کہ اچھا تو آپ چاہتے ہیں کہ سنجو سیمسن کو ابھیشیک شرما یا پھر تلک ورما کی جگہ ٹیم میں شامل کریں؟ اس جواب پر خود بھارت میں شدید تنقید ہوئی مگر جنوبی افریقہ کے خلاف شکست نے بھارت کو مجور کیا کہ سیمسن کو ٹیم میں شامل کیا جائے اور یہ فیصلہ دیکھیے کس قدر شاندار رہا کہ محض 4 میچوں کی کارکردگی کی بدولت وہ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔
انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ناقابل شکست 97 رنز اور انگلینڈ کے خلاف 89 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان 2 اننگز کے بعد صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ 2 سینچریز آپ کی مس ہوگئی ہیں آپ کیسا محسوس کررہے ہیں، جس پر ان کا جواب یاد رکھنے والا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے 2 سینچریز مس نہیں کی بلکہ میں نے 97 اور 89 رنز بنائے ہیں اور میرے لیے یاد رکھنے کے لیے یہی بہت ہے‘۔ اور پھر اس بیان میں کلیئریٹی دیکھیے کہ فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف وہ باآسانی اپنی سینچری مکمل کرسکتے تھے مگر ٹیم کے زیادہ سے زیادہ رنز بنانے کے لیے وہ رسک لیتے چلے گئے اور ایک بار پھر 89 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔
جب آپ ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں تو پھر ذاتی ریکارڈز کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اور جب ارادے اور نیت صاف ہوں تو یہ فکر بھی نہیں ہوتی کہ اگر اگلے 5 میچ بچانے کے لیے جیسی تیسی نصف سینچری نہ کی تو ٹیم سے باہر ہوجاؤں گا۔
ورلڈ کپ فائنل جیتنے کے بعد جب بھارتی کوچ گوتم گھمبیر نے میڈیا سے گفتگو کی تو ان کی ایک بات نے جیسے ہلا دیا۔ سوچ رہا ہوں کہ یہ اتنے پروفیشنل کیسے ہوگئے؟ گوتم گھمبیر کہتے ہیں کہ جب آپ 96 رنز سے 100 رنز تک پہنچنے کے لیے 4 گیندیں استعمال کرتے ہیں تو درحقیقت آپ ٹیم کے 20 رنز کا نقصان کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی ریکارڈز کے بجائے ٹیم کی فتوحات اہم ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سنجو نے 97، 89 اور 89 رنز کی اننگز کھیلی، اگر وہ اپنی سینچری مکمل کرنے کا سوچتے تو بھارت کبھی لگاتار 2 میچوں میں 250 سے زیادہ رنز نہیں کرپاتا۔ جب کوچ اور انتظامیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کو اس قدر کلیئریٹی دی گئی ہو تو پھر کھلاڑی بڑے دل اور اعتماد کے ساتھ کیوں نہ کھیلیں؟
بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے ورلڈ کپ جیتنے کے فوری بعد 2028 میں اولمپک گولڈ میڈل پر توجہ رکھنے کے اشارے دے دیے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اسی سال ٹی20 ورلڈ کپ بھی ہے تو اب سے ساری توجہ ان دونوں ایونٹس کی طرف ہوگی۔
آخر میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ آسٹریلیا کو سب سے زیادہ 10 آئی سی سی ایونٹس جیتنے کا اعزاز حاصل ہے مگر بھارت 8 کامیابیوں کے ساتھ بالکل اس کے پیچھے آچکا ہے، اگر حالات ایسے ہی چلتے رہے تو شاید چند سالوں میں آسٹریلیا پہلے سے دوسرے نمبر پر بھی آسکتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












