پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اپوزیشن جماعتوں نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی قراردار متفقہ طور پر منظور کرلی ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے بھی قراردار منظور کرلی گئی ہے۔
بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ پارلیمانی اجلاس، 11 مارچ 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے کمیٹی روم نمبر 2 میں منعقد ہوا، جس میں ملکی سلامتی، خطے کی صورتحال اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ: پاکستان، بھارت اور ہالی ووڈ کے فنکاروں کی ٹرمپ پر کڑی تنقید
اجلاس نے خطے میں پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں بین الاقوامی قانون اور ریاستی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
اجلاس نے واضح کیا کہ ہر خودمختار ریاست کو اپنے دفاع کا بنیادی حق حاصل ہے اور عالمی امن و استحکام کے لیے ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ناگزیر ہے۔ اجلاس نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے تحت اپنی سرزمین، فضائی حدود یا وسائل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کریں۔
اجلاس نے سپریم لیڈر سید علی خامنہ اور دیگر شہدا کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے تمام اقدامات کی سخت مذمت کی۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 40 کے تحت اجلاس نے مسلم ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور اسلامی یکجہتی کے فروغ پر زور دیا اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتکاری، مذاکرات اور امن کے راستے کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے ماضی میں کون سے اہم حکومتی اجلاسوں میں دعوت کے باوجود شرکت نہیں کی؟
اجلاس نے مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اجلاس نے امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں ایران داخلی استحکام، ترقی اور قومی یکجہتی کی راہ پر مزید مضبوطی سے گامزن ہوگا اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے ساتھ مسلم دنیا میں باہمی تعاون اور اتحاد میں بھی مؤثر کردار ادا کرے گا۔
اجلاس نے حکومت اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کریں۔ اجلاس نے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جیل میں صحت کے خطرات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور قرارداد منظور کی کہ انہیں فوری اور خصوصی طبی توجہ کے بعد پاکستان پریزن رولز کے تحت رہا کیا جائے۔
اجلاس نے افغانستان کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ مسائل کو صبر، تحمل اور سفارتی ذرائع سے حل کریں، جبکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے ساتھ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق عزت و وقار کے ساتھ سلوک کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان رہائی فورس ہر صورت بنے گی، صحت سے متعلق فیصلے فیملی کرے گی، شفیع جان
مزید برآں اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے دفاعی معاہدوں اور پالیسی معاملات پر پارلیمنٹ اور اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ قومی سلامتی کے فیصلے قومی اتفاقِ رائے سے کیے جا سکیں۔
اجلاس نے اس امر پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے اور تمام سیاسی و سماجی طبقات قومی مقصد کے لیے متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔














