کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت کے عمل میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کو خریدار کنسورشیم میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے 33.99 فیصد عام حصص حاصل کرے گی۔ پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ وہ خصوصی ادارہ ہے جو قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے اس فیصلے کو حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے نجکاری: کابینہ کمیٹی نے وفاقی کابینہ سے منظوری کی سفارش کردی
فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی کنسورشیم میں شمولیت اس وقت متوقع ہو گئی تھی جب نجکاری کمیشن بورڈ نے اس کی شرکت کی منظوری دی۔ عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم سرمایہ کار گروپ نے دسمبر میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی دی تھی اور اس عمل میں ایک حریف گروپ کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
معاہدے کے تحت عارف حبیب کارپوریشن کنسورشیم کی قیادت برقرار رکھے گی، جبکہ سرمایہ کار گروپ میں فاطمہ فرٹیلائزر، اے کے ڈی گروپ، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کے حوالے سے بڑا فیصلہ سامنے آگیا
معاملے کے پہلے مالی مرحلے کی تکمیل اپریل کے آخر میں متوقع ہے، جس کے تحت کنسورشیم کو تقریباً 83.3 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔ اسی مرحلے میں یہ بھی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا حکومت کے باقی 25 فیصد حصص 12 فیصد اضافی قیمت پر خریدے جائیں گے یا نہیں۔
منصوبے کے تحت کنسورشیم پی آئی اے میں براہ راست 124.875 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا، جو حکومت کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کا اہم حصہ ہے۔














