پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور یا سہیل افریدی کی کارکردگی کی بات نہیں، صرف عمران خان کے کارکردگی اچھی ہے، کارکردگی تو سابق وزیراعلی پرویز خٹک کی بھی اچھی تھی، لیکن جب وہ عمران خان سے الگ ہوئے تو عوام نے انہیں مسترد کر دیا، صوبائی حکومت میں میرا کوئی کردار نہیں ہے، وزیراعلی اور ان کے دوست سب فیصلہ کرتے ہیں، میں صوبائی تنظیم تو دیکھتا ہوں اور تنظیمی امور سنبھالتا ہوں، جو حکومتی امور ہیں وہ صوبائی حکومت دیکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی خیبر پختونخوا قیادت میں تبدیلی کی کوششیں تیز، نوجوان قیادت جنید اکبر کے خلاف کیوں؟
وی ایکسکلوزیو میں گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ پارٹی میں اختلافات کی خبریں کوئی نئی بات نہیں ہے، پی ٹی آئی کا حسن یہی ہے کہ یہاں اختلاف پایا جاتا ہے، یہاں ورکر ہیں کوئی سیاسی نوکر نہیں، سیاسی ورکر کو جو چیز بری لگے اس کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ باقی پارٹیوں میں کوئی اختلاف نہیں دکھے گا، وہ تو سیاسی نوکر ہوتے ہیں، سب نے ہاں میں ہاں ملانا ہوتا ہے، پی ٹی آئی میں ہر بندے کو اگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے، پارٹی عمران خان صاحب کے نام پر ایک ہے، جو عمران خان کا فیصلہ ہوتا ہے پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
جنید اکبر نے کہا کہ ہم کوئی گوریلا فورس نہیں، عمران خان کی رہائی کے لیے ہتھیار نہیں اٹھائیں گے، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں ہمارے پاس فورم ہو تو استعمال کرتے ہیں یا کریں گے ہیں۔ اس سے پہلے ہم ایکٹیوٹی کرتے ہیں۔ رمضان کے بعد کریں گے، کل بھی میٹنگ ہوئی، آج بھی ہو گی، ان شاءاللہ تعالیٰ وہ ساری چیزیں ہم عید سے پہلے فائنل کریں اور عید کے بعد ان شاءاللہ بھرپور پلاننگ کے تحت احتجاج کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی میرا گھر، اختلافات اور شکوے سب چلتا رہے گا، جنید اکبر نے واضح کردیا
جنید اکبر نے کہا کہ علیمہ خان پارٹی سے الگ ہیں، وہ خان صاحب کی بہن ہیں اور بہن کا جو درد ہوتا ہے اس کے دل میں ہوتا ہے تو وہ کبھی ہم سے ناراض ہو جاتی ہیں، لیکن پارٹی کے فیصلے پارٹی قیادت کرتی ہے۔













