3 سال قبل جب لیلا گرین 3 بچوں کی ماں بنیں تو انہوں نے سوچا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے دوبارہ استعمال ہونے والے کپڑے کے ڈائپر استعمال کریں گی لیکن بچوں کی پیدائش کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ایسا کرنا آسان نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شوہر اور بیٹے نے خاتون کو کس طرح 2 مرتبہ موت کے چنگل سے چھڑایا؟
لیلا گرین کہتی ہیں جب میرے بچے پیدا ہوئے تو میں ان کی دیکھ بھال میں اتنی مصروف تھی کہ دوبارہ استعمال ہونے والے ڈائپر استعمال نہیں کر سکی اس لیے میں نے آسان راستہ اختیار کیا اور ڈسپوزایبل ڈائپر استعمال کرنے لگی۔
انگلینڈ کی کاؤنٹی کینٹ کے علاقے براڈسٹیئرز میں رہنے والی لیلا کے مطابق ابتدائی دنوں میں ان کے تینوں بچوں کے لیے روزانہ تقریباً 25 ڈائپر استعمال ہو جاتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مائیں ماحول دوست متبادل چاہتی ہیں لیکن مصروف زندگی اور قیمت کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دنیا میں ہر منٹ میں 3 لاکھ ڈائپرز کچرے میں پھینکے جاتے ہیں
دنیا بھر میں اندازہ ہے کہ ہر منٹ تقریباً 3 لاکھ ڈسپوزایبل ڈائپر لینڈ فل یا جلانے کے لیے پھینک دیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاعلاج بیماریوں کا علاج: اب تک ناممکن کام کا بیڑا مصنوعی ذہانت نے اٹھا لیا
ان میں پلاسٹک اور مصنوعی مواد شامل ہوتا ہے جو مکمل طور پر گلنے میں سینکڑوں سال لے سکتا ہے۔ اگرچہ قابلِ دھلائی ڈائپر جیسے ماحول دوست متبادل موجود ہیں لیکن ان کی محنت اور قیمت کی وجہ سے ان کا استعمال محدود ہے۔
فنگس کے ذریعے ڈائپر کو ختم کرنے کی کوشش
امریکا کی ریاست ٹیکساس کی کمپنی ہیرو ٹیکنالوجیز نے ایک نیا حل پیش کیا ہے۔
کمپنی نے بغیر بلیچ کیے گئے ڈسپوزایبل ڈائپر تیار کیے ہیں جن کے ساتھ ایک چھوٹا سا پیکٹ دیا جاتا ہے جس میں فنگس ہوتی ہے۔ جب استعمال شدہ ڈائپر پھینکا جائے تو اس میں یہ فنگس ڈال دی جاتی ہے جو وقت کے ساتھ ڈائپر کو توڑ کر ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کمپنی کی شریک بانی میکی اگراوا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ برانڈ اس وقت شروع کیا جب انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ان کا اپنا بیٹا کتنے زیادہ ڈائپر استعمال کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: حاملہ خواتین کے دماغ میں نمایاں تبدیلیاں، تحقیق میں اہم انکشافات
البتہ وہ یہ واضح نہیں بتا سکتیں کہ فنگس کتنی جلدی ڈائپر کو ختم کرتی ہے۔
ان کے مطابق مختلف ماحول اور حالات کے مطابق اس کی رفتار مختلف ہو سکتی ہے لیکن بہترین حالات میں یہ فنگس ڈائپر کو عام حالات کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ختم کر سکتی ہے۔
قیمت ایک بڑی رکاوٹ
ان ڈائپرز کی ایک ماہ کی سپلائی تقریباً 136 ڈالر (تقریباً 100 پاؤنڈ) میں ملتی ہے جبکہ سبسکرپشن کی صورت میں قیمت 199 ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں عام ڈسپوزایبل ڈائپرز کی ماہانہ لاگت تقریباً 70 ڈالر ہوتی ہے۔
میکی کا کہنا ہے کہ اگرچہ قیمت زیادہ لگ سکتی ہے لیکن یہ ان بچوں اور اِس سیارے کے لیے بہتر انتخاب ہے جہاں وہ بڑے ہوں گے۔
پائیدار ڈائپر بنانے میں مشکلات
مارکیٹ ریسرچ کمپنی یورو مانیٹر کی سینئر تجزیہ کار سونالی جاگادیو کے مطابق ماحول دوست ڈائپر بنانے میں پیش رفت ابھی بھی سست ہے۔ اس کی بڑی وجوہات زیادہ پیداواری لاگت، خام مال کی مہنگائی اور سپلائی چین کی مشکلات ہیں۔
ان کے مطابق بانس کے فائبر، بائیو بیسڈ پولیمر اور نامیاتی کپاس جیسے مواد عام پلاسٹک کے مقابلے میں زیادہ مہنگے ہوتے ہیں جبکہ ان کی سپلائی بھی ابھی محدود ہے۔
یورپ میں دیگر اقدامات
بیلجیم کی ایک اسٹارٹ اپ کمپنی ووش بھی ڈائپر کے کچرے کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ کمپنی ایسے ڈائپر بناتی ہے جو ایک ہی قسم کے پلاسٹک سے تیار ہوتے ہیں تاکہ انہیں ری سائیکل کرنا آسان ہو۔
ووش ڈے کیئر سینٹرز کے ساتھ مل کر استعمال شدہ ڈائپر جمع کرتی ہے اور انہیں اپنی ری سائیکلنگ سہولت میں پراسیس کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بچوں میں موٹاپے کا مسئلہ، 22 کروڑ بچے متاثر ہونے کا خدشہ
کمپنی کے مطابق اس وقت بیلجیم میں 1400 سے زیادہ ڈے کیئر سینٹرز ان کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور روزانہ 30 ہزار سے زیادہ بچے ووش کے ڈائپر استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح پیورا نامی برانڈ ویلز میں حکومت کی مدد سے ہر سال 6 کروڑ ڈائپر ری سائیکل کرتا ہے۔
استعمال شدہ ڈائپر جمع کر کے ایک پلانٹ میں پراسیس کیے جاتے ہیں جہاں انہیں ایسے مواد میں تبدیل کیا جاتا ہے جو سڑکیں بنانے یا بینچ تیار کرنے جیسے کاموں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بچوں میں دمے کی شکایت: انہیلرز کا زیادہ استعمال کیسا ہے؟
ماہرین کے مطابق اگر نئی ٹیکنالوجی، ری سائیکلنگ نظام اور ماحول دوست مواد کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے تو مستقبل میں لینڈ فل میں جانے والے ڈائپرز کی تعداد کو کم کیا جا سکتا ہے۔













