حمل کے دوران خواتین کے دماغ کی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو انہیں ماں بننے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں نقصان دہ نہیں بلکہ نومولود کی دیکھ بھال کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر 7 میں سے ایک حاملہ خاتون کو دل کے مسائل کا سامنا، تحقیق
ایک نئی اور اب تک کی سب سے بڑی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر ’بیبی برین‘ کی اصطلاح حاملہ خواتین میں بھولنے کی عادت اور توجہ کی کمی کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ تاہم حالیہ سائنسی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ حمل کے دوران دماغ کے گرے میٹر میں اوسطاً تقریباً 5 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔ گرے میٹر دماغ کا وہ حصہ ہے جو معلومات کے تجزیے، جذبات اور ہمدردی جیسے افعال سے وابستہ ہوتا ہے۔
یہ تحقیق اسپین میں کی گئی جس کی قیادت میڈرڈ کے گریگوریو مارانوں ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ نیورو میٹرنل لیبارٹری کی ڈائریکٹر پروفیسر سوسانا کارمونا نے پروفیسر اسکار ویلارویا کے ساتھ مل کر کی۔ یہ مطالعہ سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوا۔
تحقیق کے دوران 127 حاملہ خواتین کے دماغ کے ایم آر آئی اسکین حمل سے پہلے دورانِ حمل اور پیدائش کے بعد کیے گئے۔ ان نتائج کا موازنہ 52 ایسی خواتین سے کیا گیا جو حاملہ نہیں تھیں۔
مزید پڑھیے: ماحولیاتی تبدیلی کیسے حاملہ خواتین اور نومولود بچوں پر اثر انداز ہو رہی ہے؟
سائنس دانوں نے پایا کہ جن خواتین کے دماغ میں زیادہ نمایاں تبدیلیاں آئیں وہ اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ مضبوط جذباتی تعلق محسوس کر رہی تھیں۔
پروفیسر سوسانا کارمونا کے مطابق یہ عمل دماغ کی ’ری وائرنگ‘ یا ازسرِ نو ترتیب کا حصہ ہو سکتا ہے جس کے ذریعے دماغ ماں بننے کے لیے خود کو ڈھالتا ہے۔
انہوں نے اس عمل کو درخت کی شاخوں کی کانٹ چھانٹ سے تشبیہ دی جس سے درخت زیادہ مؤثر انداز میں بڑھتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ حمل کے دوران بڑھنے والے ہارمونز، خصوصاً ایسٹروجن، گرے میٹر میں کمی سے جڑے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ پیدائش کے 6 ماہ بعد گرے میٹر کی مقدار جزوی طور پر بحال ہو جاتی ہے لیکن مکمل طور پر پہلے جیسی نہیں ہوتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں نوعمری کے دور میں ہونے والی دماغی نشوونما سے مشابہ ہو سکتی ہیں جب دماغ غیر ضروری اعصابی روابط ختم کر کے خود کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔
لندن میں مقیم نئی ماں انا موڈرینک کا کہنا تھا کہ حمل کے دوران انہیں وقتی طور پر بھولنے کی شکایت رہی لیکن اب وہ جذباتی طور پر زیادہ مضبوط اور ترجیحات طے کرنے میں بہتر ہو گئی ہیں۔
اسی طرح اسپین کی تانیا ایسپارزا، جو اس تحقیق کا حصہ رہ چکی ہیں، کہتی ہیں کہ ہم کم ذہین نہیں ہوتیں بلکہ اپنے نئے کردار کے لیے زیادہ مخصوص اور تیار ہو جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں: سرخ گوشت اور چکنائی والی غذا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتی ہے: تحقیق
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی زندگی کے اس اہم مرحلے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ بعد از زچگی ڈپریشن جیسے مسائل کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور نئی ماؤں کو مؤثر مدد فراہم کی جا سکے۔














