کئی دہائیوں سے سائنسدان اور فلسفی ایک اہم سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا ہم واقعی ایک حقیقی دنیا میں رہتے ہیں یا یہ سب کچھ ایک مصنوعی سمیولیشن ہے؟
یہ بھی پڑھیں: چیٹ بوٹ سے محبت: خاتون کو مشینی محبوب کی رخصتی کا خوف
یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ کے سائنسدان میلون ووپسن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ہماری حقیقت دراصل ‘جعلی‘ ہے اور کائنات ایک سمیولیشن میں قید ہو سکتی ہے۔
ووپسن کے مطابق اس نظریے کو سمجھنے کی کنجی ایک نئے اصول میں ہے جسے وہ سیکنڈ لا آف انفوڈائنامکس
کہتے ہیں جو سیکنڈ لا آف تھرموڈائنامکس سے متاثر ہے۔
تھرموڈائنامکس کے دوسرے قانون کے مطابق اینٹروپی (یعنی بے ترتیبی کی مقدار) کسی بھی بند نظام میں وقت کے ساتھ بڑھتی ہے یا کم از کم برقرار رہتی ہے لیکن کم نہیں ہوتی۔ اس اصول کی بنیاد پر توقع کی جاتی ہے کہ معلوماتی نظام میں بھی اینٹروپی وقت کے ساتھ بڑھے گی۔
تاہم ووپسن کے مطابق حیران کن طور پر معلوماتی نظام میں اینٹروپی بڑھنے کے بجائے کم ہو رہی ہے یا ایک خاص حد پر برقرار رہتی ہے۔ یہ بات روایتی قانون کے برعکس ہے جس کی وجہ سے انہوں نے سیکنڈ لا آف انفوڈائنامکس کا تصور پیش کیا۔
مزید پڑھیے: اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
ان کا کہنا ہے کہ اگر تھرموڈائنامکس کے مطابق اینٹروپی ہمیشہ بڑھتی ہے تو اسے متوازن رکھنے کے لیے ایک اور قسم کی اینٹروپی یعنی معلوماتی اینٹروپی کا ہونا ضروری ہے۔
ووپسن کے مطابق معلوماتی اینٹروپی میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کائنات کی بنیاد ڈیجیٹل نوعیت کی ہو سکتی ہے جہاں ڈیٹا کو بہتر بنانے اور کمپریس کرنے کا عمل جاری ہے تاکہ ’سمیولیشن‘ کو چلانے کے لیے کم کمپیوٹنگ طاقت اور اسٹوریج درکار ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی رجحان ہمیں ڈیجیٹل ڈیٹا، حیاتیاتی نظام، ریاضیاتی ہم آہنگی اور پوری کائنات میں نظر آتا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا اے آئی کھلونے بچوں کے جذبات سمجھ سکتے ہیں؟
اگرچہ ووپسن کا یہ نظریہ ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا لیکن سائنسدانوں کو امید ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد دے سکتی ہے۔














