ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور فوجی کمانڈر غلام رضا سلیمانی اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ حملے ایران کے دارالحکومت تہران میں کیے گئے، جہاں اسرائیل نے اہم ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی مشرقی ایران میں اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے تھے جب حملہ ہوا۔ وہ اپنے بیٹے، ساتھیوں اور محافظوں سمیت شہید ہوگئے۔
علی لاریجانی کون تھے؟
علی لاریجانی کی عمر 67 سال تھی۔ وہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیف تھے اور ملک کی سیکیورٹی و پالیسی کے اہم معاملات میں کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ ان کی ہلاکت کو ایران کی قیادت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
شہید علی لاریجانی 12 سال تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ایران کے چیف مذاکرات کار برائے جوہری پروگرام کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ ایران کی قدامت پسند سوچ کے حامل تھے، لیکن معتدل اور متوازن سیاسی شخصیت بھی سمجھے جاتے تھے۔
دوسری جانب غلام رضا سلیمانی، جو بسیج فورس کے سربراہ تھے، ایک الگ اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔ بسیج فورس ایران میں داخلی سیکیورٹی اور احتجاجی مظاہروں کے کنٹرول میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسرائیل کی ذمہ داری اور ایران کا ردعمل
اسرائیل نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ایران کی عسکری قیادت کو کمزور کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔
ایران نے حملوں کے بعد شدید ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل اور خطے کے دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے، جس سے مشرق وسطی میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی رہنماؤں کی شہادت کے بعد خطے میں جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے اثرات مشرق وسطی کی سلامتی اور عالمی سیاسی توازن پر دیرپا اثر ڈال سکتے ہیں۔














