برطانیہ میں مہلک میننجائٹس کا پھیلاؤ، مشتبہ کیسز کی تعداد بڑھ کر 20 ہوگئی

بدھ 18 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی مشرقی انگلینڈ کے شہر کینٹ میں یونیورسٹی کے مرکز سے شروع ہونے والے مہلک میننجائٹس کے پھیلاؤ کے بعد مشتبہ کیسز کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے۔

صحت حکام کے مطابق اس وبا میں دو نوجوان جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں ایک 21 سالہ یونیورسٹی کا طالب علم اور ایک 18 سالہ اسکول کا طالب علم شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں وبا پھیل گئی، 2 طالب علم ہلاک، 11 شدید بیمار

صحت عامہ کے اقدامات کا مرکز یونیورسٹی آف کینٹ ہے، جہاں تقریباً 18,000 طلباء زیر تعلیم ہیں، اور کچھ طلباء اس دوران اسپتال میں داخل ہیں۔

تمام کیسز شہر کے ایک نائٹ کلب، کلَب کیمسٹری، سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک کیس ایسے مریض کا بھی سامنے آیا جو کینٹ میں مقیم تھا لیکن لندن میں بیمار ہوا۔

میننجائٹس ایک جان لیوا انفیکشن ہے جو دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی حفاظتی جھلیوں کو متاثر کرتا ہے اور بچوں، نوعمر افراد اور نوجوانوں میں زیادہ عام ہے۔

17 مارچ کی شام تک 9 کیسز لیبارٹری میں تصدیق شدہ تھے جبکہ 11 کیسز کی تحقیقات جاری تھیں، جس سے مجموعی تعداد 20 ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں نوزائیدہ بچوں کے لیے لازمی ہیپاٹائٹس بی ویکسین ختم، ماہرین صحت کی شدید تشویش

طلباء کو حفاظتی اینٹی بایوٹکس کے لیے قطار میں کھڑا ہونا پڑا اور کینٹ میں چار مراکز کھولے گئے۔ حکام نے بتایا کہ یونیورسٹی کے کیمپس میں رہنے والے 5,000 طلباء کے لیے ٹارگٹ شدہ ویکسینیشن پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جسے ضرورت پڑنے پر مزید طلباء تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

میننجائٹس عام طور پر قریبی رابطے سے پھیلتی ہے، جیسے بوسہ لینا یا پینے کے برتن اور وِیپ کا اشتراک کرنا۔

ابتدائی علامات میں سر درد، بخار، نیند آنا اور گردن کا سخت ہونا شامل ہیں، جو فوری تشخیص میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

تصدیق شدہ کیسز میں سے6 میں گروپ بی میننجوکوکل بیماری پائی گئی، جو وائرل قسم کے مقابلے میں نایاب اور زیادہ مہلک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایچ آئی وی سے بچاؤ کی ویکسین منظور، گولیوں کی جگہ اس کے استعمال سے پردہ داری زیادہ ممکن

ملک بھر کے ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اینٹی بایوٹکس تجویز کریں اگر مریض 5 تا 7 مارچ کے درمیان کلَب کیمسٹری گئے ہوں یا یونیورسٹی آف کینٹ کے طلباء ہوں جنہیں حفاظتی علاج کے لیے کہا گیا ہو۔

کینٹ میں اب تک تقریباً 2,500 اینٹی بایوٹکس دی جا چکی ہیں اور حکام نے قریبی رابطے رکھنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی علاج کے لیے آگے آئیں تاکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp