مالی سال 25-2024 میں بنگلہ دیش اور سارک (SAARC) رکن ممالک کے درمیان تجارت میں بحالی دیکھی گئی، جس میں پاکستان بنگلہ دیش کا دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش: سارک کی روح زندہ ہے، تنظیم فعال ہونی چاہیے، چیف ایڈوائزر محمد یونس
بنگلہ دیش کی سارک ممالک سے کل درآمدات 10.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، بھارت سب سے بڑا تجارتی پارٹنر رہا، جبکہ پاکستان سے درآمدات 7.5 ارب روپے کے قریب ہو گئیں۔
برآمدات میں بھارت سب سے بڑا خریدار رہا اور پاکستان کو برآمدات 15 فیصد بڑھ کر قریباً 71.6 ملین ڈالر ہو گئیں، جن میں تیار شدہ کپڑے، ادویات اور چمڑے کی مصنوعات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:سارک کا احیا: پاکستان نے ایران اور چین کو منصوبے کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کردی
بنگلہ دیش سارک ممالک کے ساتھ 8.6 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا کر رہا ہے، لیکن پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ تجارت میں اب بھی وسعت کی بڑی گنجائش موجود ہے۔













