بنگلہ دیش: سارک کی روح زندہ ہے، تنظیم فعال ہونی چاہیے، چیف ایڈوائزر محمد یونس

جمعرات 1 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کا کہنا ہے کہ سارک کی روح آج بھی زندہ اور متحرک ہے جس کا ثبوت سابق وزیراعظم اور بی این پی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں جنوبی ایشیائی ممالک کی بھرپور شرکت سے ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کا ایئربس کے بجائے بوئنگ سے 14 نئے طیارے خریدنے کا فیصلہ

ڈھاکہ میں گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر محمد یونس نے کہا کہ وہ سارک کے رکن ممالک کی جانب سے بنگلہ دیش کی 3 بار منتخب ہونے والی وزیراعظم کے ساتھ اظہار یکجہتی پر دلی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ احترام ایک ایسی رہنما کے لیے تھا جنہوں نے ملکی سیاست اور علاقائی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں متعدد اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی جن میں پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، نیپال کے وزیر خارجہ بالا نندا شرما، سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ اور مالدیپ کے وزیر علی حیدر احمد شامل تھے۔

تدفین کے بعد مہمان وفود نے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں پروفیسر محمد یونس سے خیرسگالی ملاقاتیں کیں جہاں انہوں نے بیگم خالدہ ضیا کی سیاسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور جمہوری جدوجہد و علاقائی تعاون کے لیے ان کے کردار کو یاد کیا۔

مزید پڑھیے: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں کون سی اہم شخصیات نے شرکت کی؟

پروفیسر یونس نے کہا کہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ سابق وزیراعظم سے گہری محبت رکھتے تھے۔

انہوں نے بار بار سارک کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آخری رسومات کے موقعے پر دکھائی جانے والی یکجہتی اس تنظیم کی موجودہ اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ماضی میں سارک رہنماؤں کو غیر رسمی طور پر اکٹھا کرنے کی ایک کوشش کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ فورم ایک بار پھر خطے کے تقریباً 2 ارب عوام کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

ملاقاتوں کے دوران بنگلہ دیش میں آئندہ قومی انتخابات پر بھی بات چیت ہوئی۔

مزید پڑھیں: خالدہ ضیا کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک دور ختم

پروفیسر یونس نے بتایا کہ 12 فروری کو آزاد اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں اور انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے سابقہ پیشہ ورانہ کردار میں واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سری لنکا اور نیپال کے وزرائے خارجہ نے بیرون ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کے لیے متعارف کرائے گئے پوسٹل ووٹنگ سسٹم میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

پروفیسر یونس کے مطابق تقریباً 7 لاکھ اوورسیز بنگلہ دیشی اس نظام کے تحت ووٹر کے طور پر رجسٹر ہو چکے ہیں جو پہلی بار نافذ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کا سابق وزیرِ اعظم بیگم خالدہ ضیاء کے انتقال پر اظہارِ افسوس

سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے کہا کہ کولمبو بنگلہ دیش کے پوسٹل ووٹنگ کے تجربے کا بغور مشاہدہ کرے گا تاکہ اپنے انتخابی نظام میں بہتری کے لیے اس سے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیکناف سرحد سے گرفتار تمام 53 افراد کیمپوں میں مقیم روہنگیا مہاجر نکلے، بنگلہ دیشی سرحدی فورسز

کوئٹہ: سرکاری ملازمین کی احتجاجی تحریک کا دوسرا مرحلہ شروع، 15 جنوری کو لاک ڈاؤن کا اعلان

امریکی قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، گرین لینڈ کا دوٹوک مؤقف

پیپلزپارٹی کا احتجاج: حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا

بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی

ویڈیو

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

ٹھیلے سے ریسٹورنٹ تک، سوشل میڈیا کے بل بوتے پر کامیابی کی انوکھی کہانی

’باادب بامراد‘: شاگردوں کا استاد کے لیے بے مثال احترام، گاڑی بطور تحفہ پیش کردی

کالم / تجزیہ

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘

تحریک انصاف کا دشمن کون؟