بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس نے سابق لیفٹیننٹ جنرل اور موجودہ سیاستدان مسعود الدین چوہدری کو قتل سمیت متعدد مقدمات میں گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کہاں اور کیسے ہوئی؟
پولیس کے مطابق مسعود الدین چوہدری کو پیر کی رات دارالحکومت کے باریدھارا ڈی او ایچ ایس علاقے میں واقع ایک رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد انہیں تفتیش کے لیے ڈیٹیکٹو برانچ کے دفتر منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق گرفتاری قتل کے مقدمے میں جاری وارنٹ کی بنیاد پر عمل میں آئی، جبکہ ان کے خلاف انسانی اسمگلنگ سمیت دیگر الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس سے مقدمات کی مجموعی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کی پولیس میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، 5 ایڈیشنل آئی جیز کو ریٹائر کر دیا گیا
ڈیٹیکٹو برانچ کے سربراہ شفیق الاسلام نے تصدیق کی کہ ملزم کے خلاف وارنٹ موجود تھا اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ماضی میں اہم عہدوں پر فائز رہے
مسعود الدین چوہدری 2007 میں بنگلہ دیش آرمی کی نائنتھ انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ رہے، جبکہ اسی سال سیاسی تبدیلی کے دوران قومی سطح کی کمیٹی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
وہ 2008 سے 2011 تک آسٹریلیا میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر رہے، بعد ازاں جاتیا پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 2018 کے انتخابات میں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش: انسانیت کیخلاف جرائم کے مقدمے میں سیاستدان سے ضمانت کے بدلے رشوت مانگے جانے کا انکشاف
پولیس کے مطابق مزید تفتیش کے بعد مسعود الدین چوہدری کو عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔













