بنگلہ دیش کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جولائی ماس اپریزنگ (تحفظ اور ذمہ داری کے تعین) آرڈیننس کو اس کی موجودہ شکل میں پارلیمنٹ میں غور کے لیے پیش کرنے کی سفارش کرے گی، تاکہ جولائی تحریک میں حصہ لینے والے طلبا اور شہریوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
یہ فیصلہ خصوصی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا جو منگل کو قومی اسمبلی کے کابینہ روم میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کو عبوری حکومت کے تحت جاری کیے گئے 133 آرڈیننسز کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جولائی تحریک کی بازگشت: بنگلہ دیش میں نوجوانوں کے جوش کے ساتھ ووٹنگ جاری
کمیٹی کے اراکین نے گنابھابن میں جولائی ماس اپریزنگ میموریل میوزیم کے قیام سے متعلق آرڈیننس کی منظوری کی بھی سفارش کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین زین العابدین نے کی اور اس میں وزیر داخلہ صلاح الدین احمد، چیف وہپ نورال اسلام مونی، وزیر قانون اسد الزمان، ڈاکٹر محمد عثمان فاروق، اے ایم محبوب الدین، وزیر مملکت برائے عوامی انتظامیہ عبدالباری، محمد نوشاد ضمیر، وزیر مملکت برائے سماجی بہبود فرزانہ شرمین، اور اپوزیشن اراکین، جن میں جماعت اسلامی کے ایم پیز مجیب الرحمٰن، رفیق الاسلام خان اور جی ایم نذر الاسلام شامل تھے۔
اجلاس کے بعد وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ کمیٹی نے جولائی تحریک میں حصہ لینے والوں کو انڈیمنٹی دینے پر مکمل اتفاق کیا ہے اور ان کے لیے قانونی تحفظ فراہم کرنا اخلاقی اور ریاستی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ عبوری حکومت کے دوران جاری کیا گیا آرڈیننس موجودہ شکل میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر بعد میں ترامیم پر غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: جولائی تحریک کے 31 متاثرین کا پاکستان میں علاج کا فیصلہ
پارلیمنٹ سیکرٹریٹ کے بیان کے مطابق، کمیٹی نے پہلے دن 133 آرڈیننسز میں سے 40 کا جائزہ لیا اور باقی آرڈیننسز آنے والے اجلاسوں میں زیر غور آئیں گے۔ اگلا اجلاس بدھ دوپہر کو منعقد ہوگا۔
انڈیمنٹی آرڈیننس جو 25 جنوری کو جاری کیا گیا، جولائی تحریک کے شرکا کے خلاف درج شہری اور فوجداری مقدمات کی واپسی کی اجازت دیتا ہے اور مقررہ دفعات کے تحت نئے مقدمات درج کرنے سے روکتا ہے۔
کمیٹی نے ایک اور آرڈیننس پر بھی بات کی جس کے تحت سرکاری اور خود مختار اداروں میں براہِ راست بھرتی کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 30 سال سے بڑھا کر 32 سال کرنے کی تجویز ہے۔
اپوزیشن اراکین نے حد 35 سال کرنے کی تجویز دی، لیکن اراکین نے 32 سال پر اتفاق ظاہر کیا اور معاملہ پارلیمنٹ میں نئے بل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جولائی عوامی تحریک کے شرکا کو قانونی تحفظ دینے کی منظوری دیدی
وزیر قانون اسد الزمان نے کہا کہ حکومت آئینی دفعات اور عوامی توقعات کے توازن کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اپوزیشن رکن رفیق الاسلام خان نے کہا کہ اگر جولائی تحریک کے جذبے کو نافذ کرنے کے لیے آئینی ترامیم کی ضرورت ہو تو اسے زیر غور لایا جانا چاہیے۔
کمیٹی کے چیئرمین زین العابدین نے صحافیوں کو بتایا کہ اب تک نصف سے کم آرڈیننسز کا جائزہ لیا گیا ہے اور آئندہ اجلاسوں میں بات چیت جاری رہے گی۔













