جدہ کا رمضان میں 40 لاکھ سیاحوں کی میزبانی کرنے کا نیا ریکارڈ

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جدہ کے تاریخی علاقے نے رمضان کے مہینے میں 4 ملین (40 لاکھ) سے زائد سیاحوں کو خوش آمدید کہہ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس علاقے کی تاریخی اہمیت اور ثقافتی ورثہ عالمی سطح پر کتنی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: جدہ: قدیم ترین مسجدِ عثمان بن عفان میں صدیوں پرانے حیران کن آثار دریافت

رمضان کے دوران زائرین کی بڑی تعداد نے یہاں مختلف ثقافتی اور مذہبی تقریبات میں شرکت کی۔ یہ علاقہ اپنی قدیم عمارتوں، بازاروں اور مساجد کی وجہ سے مشہور ہے، جو ہر زائر کو ایک منفرد اور یادگار تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، مقامی حکام نے زائرین کی سہولت کے لیے سیکیورٹی اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر خصوصی انتظامات کیے تھے۔

مزید پڑھیں: عیدالفطر سے قبل جدہ کی تاریخی منڈیاں خریداروں سے بھر گئیں

یہ نیا ریکارڈ سعودی وژن 2030 کے تحت ملک کی سیاحتی صنعت کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حکومت تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کے لیے مختلف منصوبے بھی چلا رہی ہے تاکہ مزید زائرین کو اس تاریخی علاقے کی جانب متوجہ کیا جا سکے۔ آئندہ بھی جدہ کے تاریخی علاقے کی ترقی اور اس کی عالمی سطح پر پہچان بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں