’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘ رکھنے کے فیصلے پر امریکا اور کینیڈا میں بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض امریکیوں نے بھی اس اقدام کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔

ٹرمپ نے 27 اگست کو صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے، جس کے تحت امریکی وفاقی ادارے اپنی دستاویزات اور نقشوں میں جھیل اونٹاریو کے لیے ’لیک امریکا‘ کا نام استعمال کریں گے۔ تاہم کینیڈا نے واضح کیا ہے کہ وہ جھیل کو بدستور ’لیک اونٹاریو‘ ہی کہے گا۔

یہ فیصلہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازع کے دوران سامنے آیا۔ دونوں ملکوں کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے تقریباً 20 ارب ڈالر کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے، جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات کا اعلان کیا۔

کینیڈا کا بھی ٹرمپ کو جواب

ٹرمپ کے اقدام کے بعد کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں ’ٹرمپ ایونیو‘ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز بھی سامنے آگئی ہے۔ سٹی کونسل نے نام بدلنے کے حق میں ابتدائی منظوری دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا

ممکنہ نئے ناموں میں ’اوباما ایونیو‘، ’اونٹاریو ایونیو‘، ’کینیڈا ایونیو‘ اور طنزیہ طور پر ’ٹیکو ایونیو‘ شامل ہیں۔ یوں امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع اب جھیل اور سڑکوں کے ناموں کی علامتی جنگ تک بھی پہنچ گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp