امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘ رکھنے کے فیصلے پر امریکا اور کینیڈا میں بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض امریکیوں نے بھی اس اقدام کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔
ٹرمپ نے 27 اگست کو صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے، جس کے تحت امریکی وفاقی ادارے اپنی دستاویزات اور نقشوں میں جھیل اونٹاریو کے لیے ’لیک امریکا‘ کا نام استعمال کریں گے۔ تاہم کینیڈا نے واضح کیا ہے کہ وہ جھیل کو بدستور ’لیک اونٹاریو‘ ہی کہے گا۔
NEW: President Trump explains the reason why he's renaming Lake Ontario to "Lake America," and takes aim at the Canadian government.
"They want to be treated like a state. But they're not a state. "
"We lose on average over the last 15 years, $60 billion a year carrying Canada.… pic.twitter.com/qbe59CE89z
— Fox News (@FoxNews) August 27, 2026
یہ فیصلہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازع کے دوران سامنے آیا۔ دونوں ملکوں کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے تقریباً 20 ارب ڈالر کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے، جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات کا اعلان کیا۔
کینیڈا کا بھی ٹرمپ کو جواب
ٹرمپ کے اقدام کے بعد کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں ’ٹرمپ ایونیو‘ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز بھی سامنے آگئی ہے۔ سٹی کونسل نے نام بدلنے کے حق میں ابتدائی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا
ممکنہ نئے ناموں میں ’اوباما ایونیو‘، ’اونٹاریو ایونیو‘، ’کینیڈا ایونیو‘ اور طنزیہ طور پر ’ٹیکو ایونیو‘ شامل ہیں۔ یوں امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع اب جھیل اور سڑکوں کے ناموں کی علامتی جنگ تک بھی پہنچ گیا ہے۔













