مشرق وسطیٰ کشیدگی: بھارت کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا، ملک اقتصادی بحران کی طرف بڑھنے لگا

بدھ 25 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازعے کے باعث بھارت کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور ماہرین کے مطابق ملک شدید اقتصادی دباؤ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر جان میئر شائمر نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع بھارت کی داخلی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی بحران میں خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات، پاکستان نے 40 فوڈ آئٹمز بھجوانے کی منظوری دے دی

ان کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایک نقصان اٹھانے والا ملک بنتا جا رہا ہے۔

روسی ٹیلی وژن کو دیے گئے انٹرویو میں پروفیسر جان میئر شائمر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اس تنازعے سے بھارت کو کس حد تک نقصان پہنچے گا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیاکہ سربراہی اجلاس کا انعقاد مہنگائی پر قابو پانے میں مددگار ثابت نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران کے باعث گیس، کھاد اور خوراک کی پیداوار کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے مہنگائی اور مالی دباؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ یہ صورتحال بھارت کے لیے نہایت منفی ہے، جس کی نشاندہی بھارتی میڈیا بھی کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پروفیسر جان میئر شائمر کی رائے اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث بھارت میں شدید اقتصادی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ غیر سنجیدہ سفارتی اور سیاسی حکمت عملی ملک کو مزید معاشی مشکلات سے دوچار کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ جنگ: اشرافیہ معاشی بوجھ برداشت کرکے مثال قائم کرے، وزیراعظم شہباز شریف

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کھاد اور خوراک کی پیداوار پر اثرات کے نتیجے میں بھارتی کسانوں اور برآمد کنندگان کو طویل المدتی معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp