بنگلہ دیش نے انقلاب منچا کے ترجمان شاہد شریف عثمان ہادی کے قتل کیس میں بھارت میں گرفتار ملزمان کی حوالگی کے لیے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت باضابطہ درخواست کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ صلاح الدین احمد نے جمعرات کو ڈھاکا میں راجار باغ پولیس لائنز یادگار پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ خارجہ کے ذریعے سفارتی چینلز کے تحت بھارت کو باضابطہ درخواست ارسال کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور اس مقدمے میں نامزد کئی ملزمان کو بھارت میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ان کے مطابق ابتدا میں 2 جبکہ بعد میں ایک اور ملزم کو حراست میں لیا گیا، جن کی بنگلہ دیش منتقلی کے لیے گرفتاری وارنٹس سمیت سرکاری درخواست بھیجی گئی ہے تاکہ انہیں قانونی طریقے سے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت واپس لایا جا سکے۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ قتل میں ملوث تمام افراد کو بنگلہ دیش واپس لا کر ملکی قوانین کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: قتل کیس، حملے اور احتجاج: بنگلہ دیش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت ہدایات جاری کردی گئیں
صلاح الدین احمد نے گفتگو کے دوران 1971 کی جنگِ آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 25 مارچ 1971 کی رات راجار باغ پولیس لائنز پر حملے نے آزادی کے اعلان کی رفتار تیز کر دی تھی۔ ان کے مطابق اس حملے کے بعد چٹاگانگ سے ضیا الرحمان نے آزادی کا اعلان کیا، جس کی بعد ازاں شیخ مجیب الرحمٰن کی جانب سے توثیق کی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کے باضابطہ جواب کے بعد مزید قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔













